گوانتانامو: ’امریکہ کی مدد کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے ان اراکینِ پارلیمان نے جنہوں نے گوانتانامو کے قید خانے کا دورہ کیا ہے، اپنی حکومت اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قید خانے کو بند کرنے کے لیے امریکہ کی مزید مدد کی جائے۔ برطانیہ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سات ارکان نے گزشتہ برس ستمبر میں گوانتانامو کے قید خانے کا دورہ کیا تھا۔اس دورے پر مبنی ایک رپورٹ میں قید خانے کے حالات پر تنقید کی گئی ہے لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہاں موجود قیدیوں میں سے کئی خطرناک ہیں اور دنیا کو مسئلے کے حل کے لیے دیرپا حل کی تلاش کرنا ہوگی۔ تاہم حزبِ اختلاف کے اراکین اور حقوقِ انسانی کے گروپوں نے اس رپورٹ کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ سن دو ہزار دو میں افغانستان پر حملے کے بعد امریکہ نے کیوبا میں اپنے ایک اڈے پر یہ قید خانہ قائم کیا تھا۔ یہاں اب 395 قیدی ہیں جن میں دس برطانیہ کے رہنے والے ہیں اور برطانوی حکومت کہتی ہے کہ وہ انہیں واپس وطن لانے کی پابند نہیں۔
حقوقِ انسانی کے ایک گروپ سے تعلق رکھنے والے کلارا گوٹریج کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے وہ رہائشی جو گوانتانامو میں قید ہیں، برطانوی شہری نہیں ہیں البتہ ان کے اس ملک کے ساتھ طویل روابط ہیں۔ ان قیدیوں میں کچھ ایسے ہیں جن کے پاس برطانوی شہریت تو نہیں مگر انہیں لامحدود مدت کے لیے برطانیہ میں رہائش کی اجازت ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکثر قیدی امنِ عامہ کے لیے خطرہ ہیں اور یہ کہ ہر ریاست اپنے شہریوں یا دوسروں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس وقت صرف امریکہ ہی دوسروں کی حفاظت کر رہا ہے جبکہ دنیا کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ضرورت ہے۔ خارجہ کمیٹی کے چیئرمین مائیک گیپس کہتے ہیں کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ان خطرناک قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے تو ان کا کیا بنے گا اور وہ کہاں روانہ ہوں گے۔ ’ان میں سے کچھ کو رہا کیا جا سکتا ہے اور انہیں اپنے ملک میں واپس بھیجا جا سکتا ہے لیکن خطرناک قیدیوں کو کہاں بھیجا جائے۔‘ اراکینِ پارلیمان نے گوانتانامو کے قید خانے میں صرف ایک دن گذارہ تھا اور انہیں قیدیوں تک براہِ راست رسائی حاصل نہیں تھی۔ ان اراکین کے مطابق قیدیوں کے لیے کافی خوراک تھی اور انہیں اچھی طبی امداد حاصل تھی۔ البتہ قید خانے میں تفریح اور تعلیم کی سہولتیں برطانیہ کے قید خانوں کی نسبت کم تھیں۔ رپورٹ کے مطابق بہت سے قیدیوں کو چھوٹے چھوٹے کمروں میں رکھا گیا ہے اور دوسرے قیدیوں سے ان کا رابطہ کم ہی ہوتا ہے اور انہیں ورزش کرنے کے مواقع بھی کم ملتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قیدخانے میں بتی چوبیس گھنٹے جلتی ہے۔ کچھ قیدی موٹے ہیں، دو ایسے ہیں جنہیں زبردستی کھلایا جاتا ہے اور بیس فیصد ایسے ہیں جنہیں نفسیاتی مسائل ہیں۔ | اسی بارے میں ’گوانتانامو قیدخانہ بند کر دیں گے‘21 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘30 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کو حقوق مل گئے11 July, 2006 | آس پاس ’گوانتانامو میں جو دیکھا‘ 23 July, 2006 | آس پاس گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات07 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||