گوانتانامو: ’سول عدالتیں مجاز نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی اپیل عدالت نے کہا ہے کہ گوانتانامو بے میں قید افراد کی حراست کو امریکی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ کولمبیا ڈسٹرکٹ کی امریکی کورٹس آف اپیل نے یہ فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے دیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سول عدالتیں اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتیں کہ آیا گوانتامو بے میں موجود افراد کی قید غیر قانونی ہے یا نہیں۔ سول عدالتوں کے اختیار کے حوالے سے یہ تجویز صدر بش کے دہشت گردوں پر مقدمہ چلانے سے متعلق اس قانون کا کلیدی حصہ ہے جسے گزشتہ برس کانگریس کے سامنے لایا گیا تھا۔ نامہ نگار اس فیصلے کو صدر بش کی’دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ‘ کے حوالے سے اہم قرار دے رہے ہیں تاہم ان کا ماننا ہے کہ اس کے خلاف یقیناً سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔ فیصلہ سناتے ہوئے جج اے ریمنڈ رنڈولف نے کہا حراست میں لیے گئے افراد کے وکلاء کے دلائل کو قبول کرنا امریکی کانگریس کے عزم سے صرف نظر کرنے کے مترادف ہوتا۔ فیصلے سے اختلاف کرنے والے جج جوڈتھ راجرز نے کہا کہ ’سول عدالتیں قومی سلامتی کے حوالے سے حکومت کی خصوصی دلچسپیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کی اہل ہیں‘۔ یاد رہے کہ ماضی میں صدر بش کہہ چکے ہیں کہ انہیں دہشتگردوں کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے اس قانون کی ضرورت ہے۔ اس قانون کی رو سے غیر ملکیوں کو ’دشمن حملہ آور‘ قرار دے کر غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ گوانتانامو بے کے حراستی مرکز میں چار سو کے قریب افراد قید ہیں جن میں سے اسّی پر نئے فوجی کمیشن میں مقدمہ چلایا جانے والا ہے۔ | اسی بارے میں گوانتانامو: ’امریکہ کی مدد کریں‘22 January, 2007 | آس پاس انسدادِ دہشگردی بل پر تشویش20 October, 2006 | آس پاس بش نے بل پر دستخط کر دیئے18 October, 2006 | آس پاس دہشت گردی پر نیا امریکی قانون29 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو بے سے لکھے گئے خطوط27 September, 2006 | آس پاس خفیہ جیلیں: بش پرشدید تنقید06 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||