BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 October, 2006, 03:10 GMT 08:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسدادِ دہشگردی بل پر تشویش
جون میں ایک عدالت نے گوانتانامو ٹرابیونلز کو امریکی اور عالمی قانون کے خلاف قرار دیا تھا
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے امریکہ میں چند دن قبل انسدادِ دہشت گردی بل کی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) کے صدر جیکب کیلنبرجر نے کہا کہ اس قانون کی منظور سے ’سوالات‘ پیدا ہوئے ہیں کہ کیا یہ جنیوا کنونشن کے تحت جنگ کی معاملے پر رہنما اصولوں کی تعمیل کرے گا یہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون میں سے چند نکات ختم کر دیئے گئے ہیں جن میں منصفانہ مقدمے کا حق اور قیدیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک پر پابندی شامل ہیں۔

صدر جارج بش نے منگل کو غیر ملکی قیدیوں سے متعلق بل پر دستخط کر کے اسے قانون کا درجہ دے دیا تھا اور کہا تھا کہ اس قانون سے امریکیوں کی زندگیاں محفوظ ہو جائیں گی۔

صدر بش کا کہنا ہے کہ اس قانون سے سی آئی اے کو تفتیش کر کے امریکی شہریوں کی زندگیاں بچانے کا اختیار رہے گا

دو ہزار چھ کے ملٹری کمیشنز ایکٹ میں امریکی حکام کے زیرِ حراست غیر ملکی مشتبہ دہشت گردوں سے تفتیش اور ان پر مقدمات چلانے کے معیار مقرر کر دیئے گئے ہیں۔

اس نئے قانون میں مدعا الیہان کے حقوق کے تحفظ کا اشارہ تو ملتا ہے لیکن اسی قانون میں درج ہے کہ مدعا علہیان اپنی حراست کو چیلنج نہیں کر سکتے۔

یہ قانون سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں بنایا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی ٹرائبیونلزمیں گوانتانامو بے کے قیدیوں پر مقدمات چلانا بین الاقوامی اور امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ریڈ کراس کی کمیٹی کے صدر جیکب نے کہا اس نئے قانون پر کمیٹی کا ابتدائی تبصرہ یہ ہے کہ اس کی منظور سے کچھ خدشات اور کچھ سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

’یہ سوال کہ لڑاکا دشمن کی تعریف کیا ہے اور یہ کہ اس قانون میں واضح طور پر جبری شہادت کے حصول کو منع نہیں کیا گیا، ہمارے خدشات کی دو مثالیں ہیں۔‘

شخصی آزادیوں کے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون مدعا علیہان کو حقوق کی ضمانت نہیں دیتا

انہوں نے کہا کہ کمیٹی وائٹ ہاؤس کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کرے گی اور یہ استفسار کرے گی کہ یہ نیا قانون ان نکات سے عاری کیوں ہے جن کو ملکی امریکی قانون میں جنگی جرائم سے تعبیر کیا گیا ہے۔‘

منگل کو صدر بش نے کہا تھا کہ اس نئے قانون سے سی آئی اے کے اہلکار مشتبہ غیر ملکیوں سے تفتیش کر سکیں گے اور امریکی زندگیوں کو بچائیں گے۔

صدر بش نے کہا تھا کہ نیا قانون امریکہ کی عالمی ذمہ داریوں کی تعمیل کرتا ہے اور یہ کہ اس قانون کے تحت خصوصی ٹرائبیونلز کا نظام وضع کیا جا سکے گا تاکہ مدعا علیہان کو منصفانہ مقدمے کا حق مل سکے۔

شہری آزادیوں کے گروپوں کا کہنا ہے کہ نیا قانون زیرِ حراست افراد کو ان کے حقوق کی ضمانت فراہم نہیں کرتا اور اسے عدالت میں چیلنج کیا جانے کا امکان بہر حال موجود ہے۔

اسی بارے میں
بش نے بل پر دستخط کر دیئے
18 October, 2006 | آس پاس
ریڈ کراس کا نیا نشان
05 December, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد