ریڈ کراس کا نیا نشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنیوا میں 192 ملکوں کے سفارت کار بین الاقوامی ریڈ کراس کے لیے تیسرے نشان پر بحث کر رہے ہیں۔ ریڈ کریسنٹ کے حکام کو امید ہے کہ اس تیسرے نشان سے کئی دہائیوں سے جاری تنازعہ ختم ہو جائے گا۔ اس وقت دو نشان بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہیں۔ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ۔ ان نشانات کی حامل ایمبولنسیں اور امدادی کارکن بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہتے ہیں۔ ان کو جنگ اور بحران کے علاقوں میں ہر جگہ جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ لیکن کچھ ملک اس مقصد کے لیے اپنے نشان استعمال کرتے ہیں جنہیں عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی۔ خاص طور پر اسرائیل کی ایم ڈی اے سوسائٹی سرخ ستارہ کا نشان استعمال کرتی ہے۔ اس وجہ سے یہ سوسائٹی ابھی تک ریڈ کریسنٹ کی رکن نہیں ہے جسے اسرائیلی نا انصافی قرار دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریڈ کراس کی طرز کا نشان اسرائیل کا قومی نشان ہے۔ عرب ریاستوں نے واضع کیا ہے کہ وہ سرخ ستارے کے نشان کو عالمی معیار کے طور پر کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی کنونشن کے تحت اس کام کے لیے ملکی سرحدوں سے باہر صرف تسلیم شدہ نشانات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اپنے سرخ ستارے کے نشان کو مقبوضہ علاقوں میں استعمال نہیں کر سکتا۔ اس مسئلے کا واحد حل اب ایک نئے نشان کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ریڈ کراس کے حکام ایک ایسے نشان کو سامنے لائے ہیں جس سے ان کے خیال میں سب اتفاق کریں گے۔ اس نئے نشان کا نام ریڈ کرسٹل ہے۔ یہ ایک سرخ ہیرے کی شکل میں ہے جس کا پس منظر سفید ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس نئے نشان کے منظوری بہت قریب ہے۔ زیادہ تر سفارت کاروں کا خیال ہے کہ اگر مکمل اتفاق رائے نہ ہو سکا تب بھی اکثریت اس کے حق میں ہے۔ | اسی بارے میں کتے لاشوں کو بھنبھوڑتے رہے ہیں‘10 December, 2004 | آس پاس فلوجہ میں امداد بھیجنےکافیصلہ18 November, 2004 | آس پاس مشتبہ القاعدہ قیدی کہاں ہیں؟23 May, 2004 | آس پاس بغداد و بصرہ: ریڈ کراس دفاتر بند08 November, 2003 | آس پاس عراق میں عملہ کم کرنے کا اعلان29 October, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||