BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 December, 2005, 18:54 GMT 23:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریڈ کراس کا نیا نشان
ریڈ کراس کا مجوزہ نشان
ریڈ کراس کا نیا تجویز کردہ نشان
جنیوا میں 192 ملکوں کے سفارت کار بین الاقوامی ریڈ کراس کے لیے تیسرے نشان پر بحث کر رہے ہیں۔

ریڈ کریسنٹ کے حکام کو امید ہے کہ اس تیسرے نشان سے کئی دہائیوں سے جاری تنازعہ ختم ہو جائے گا۔

اس وقت دو نشان بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہیں۔ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ۔ ان نشانات کی حامل ایمبولنسیں اور امدادی کارکن بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہتے ہیں۔

ان کو جنگ اور بحران کے علاقوں میں ہر جگہ جانے کی اجازت ہوتی ہے۔

لیکن کچھ ملک اس مقصد کے لیے اپنے نشان استعمال کرتے ہیں جنہیں عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی۔

خاص طور پر اسرائیل کی ایم ڈی اے سوسائٹی سرخ ستارہ کا نشان استعمال کرتی ہے۔ اس وجہ سے یہ سوسائٹی ابھی تک ریڈ کریسنٹ کی رکن نہیں ہے جسے اسرائیلی نا انصافی قرار دیتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریڈ کراس کی طرز کا نشان اسرائیل کا قومی نشان ہے۔

عرب ریاستوں نے واضع کیا ہے کہ وہ سرخ ستارے کے نشان کو عالمی معیار کے طور پر کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

اس سلسلے میں بین الاقوامی کنونشن کے تحت اس کام کے لیے ملکی سرحدوں سے باہر صرف تسلیم شدہ نشانات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ریڈ کراس کے منظور شدہ نشانات
اس وقت صرف دو نشانات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہیں

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اپنے سرخ ستارے کے نشان کو مقبوضہ علاقوں میں استعمال نہیں کر سکتا۔

اس مسئلے کا واحد حل اب ایک نئے نشان کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ریڈ کراس کے حکام ایک ایسے نشان کو سامنے لائے ہیں جس سے ان کے خیال میں سب اتفاق کریں گے۔

اس نئے نشان کا نام ریڈ کرسٹل ہے۔ یہ ایک سرخ ہیرے کی شکل میں ہے جس کا پس منظر سفید ہے۔
اسرائیل نے اس بات پر رضامندی کلا اظہار کیا ہے کہ وہ اسے اپنی سرحدوں سے باہر استعمال کرے گا۔ طویل مذاکرات کے بعد ایم ڈی اے اور فلسطینی ریڈ کریسنٹ نے مقبوضہ علاقوں میں مل کر کام کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس نئے نشان کے منظوری بہت قریب ہے۔ زیادہ تر سفارت کاروں کا خیال ہے کہ اگر مکمل اتفاق رائے نہ ہو سکا تب بھی اکثریت اس کے حق میں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد