دہشت گردی پر نیا امریکی قانون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سینیٹ نے صدر جارج بش کی ان تجاویز کی منظوری دیدی ہے جن کے تحت دہشت گردی کے شبہے میں غیرملکیوں کی پوچھ گچھ ہوسکے گی اور ان پر مقدمہ چلایا جاسکے گا۔ سینیٹ میں ان تجاویز کے حق میں 34 کے مقابلے میں 65 ووٹ ڈالے گئے۔ بش انتظامیہ کی لگ بھگ ایسی ہی تجاویز کی ایوانِ نمائندگان نے جمعرات کو منظوری دیدی ہے۔ چند دن کے اندر صدر جارج بش نئے بِل پر دستخط کردیں گے جس کے بعد یہ تجاویز قانون بن جائیں گی۔ نئے قانون کے تحت خصوصی ٹریبیونل قائم کیے جائیں گے جہاں گوانتانامو کے سینکڑوں قیدیوں پر مقدمہ چلایا جاسکے گا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ نئے قوانین کے ذریعے نومبر کے پارلیمانی انتخابات سے قبل اس بات کا اشارہ کرنا چاہتی ہے کہ وہ ’دہشت گردی مخالف جنگ‘ میں اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے۔ حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کے تحت قائم کیے جانے والے خصوصی ٹریبیونلوں میں قیدیوں کو وہی تحفظ نہیں فراہم ہوگا جو کہ انہیں موجودہ سِول عدالتوں میں ہے۔ نئے قوانین بنانے کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کیوں کہ امریکی سپریم کورٹ نے گزشتہ جون میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ بش انتظامیہ کی جانب سے قائم کیے جانے والے فوجی ٹریبیونل امریکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ نئے قوانین کے تحت قیدیوں کو پرانے نظام کی نسبت زیادہ حقوق حاصل ہوں گے لیکن اہم فرق یہ ہے کہ نئے قوانین کے تحت وہ اپنی حراست کے خلاف فیڈل کورٹ میں اپیل نہیں کرسکیں گے۔ | اسی بارے میں عراق میں پیش رفت اہم: بش23 April, 2006 | آس پاس ’امریکہ حالتِ جنگ میں ہے‘05 September, 2006 | آس پاس خفیہ جیلیں: بش پرشدید تنقید06 September, 2006 | آس پاس ’صدام کا القاعدہ سے تعلق نہیں‘09 September, 2006 | آس پاس مشتبہ دہشتگردوں پر امریکی معاہدہ22 September, 2006 | آس پاس ’جہادی قوتوں کو تقویت ملی ہے‘27 September, 2006 | آس پاس صحافیوں پر بش انتظامیہ کی تنقید28 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||