مشتبہ قیدی دشمن جنگجو ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو میں ایک نہایت اہم سماعت کا آغاز ہوا ہے جس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ آیا مشتبہ افراد کو دشمن جنگجو گردانتے ہوئے ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ کیوبا میں واقع امریکی کیمپ پر ہونے والی اس سماعت میں گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصبہ بندی کے مبینہ ذمہ دار خالد شیخ محمد کے علاوہ تیرہ دیگر مشتبہ دہشتگرد پیش ہوں گے۔ان افراد کو سالوں سی آئی اے کی جیلوں میں رکھنے کے بعد جزیرہ گوانتانامو پہنچایا گیا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ یہ افراد کسی بھی عدالت میں پیش کیے جا رہے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں کی جا رہی سماعت ٹرائبیونل کا مذاق ہے۔ نہ صرف اس سماعت میں کسی وکیل صفائی کو نہیں بلایا جارہا بلکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس میں تین فوجی افسران پر مشتمل ججوں کا پینل ملزمان سے طاقت کے زور پر لیے گئے ثبوتوں کو قبول کر سکتا ہے۔ مذکورہ عدالتی کارروائی میں کسی فرد کے مجرم یا معصوم ہونے کا فیصلہ نہیں ہوگا لیکن یہ اس لحاظ سے اہم ہو گی کہ پکڑے گئے مشتبہ افراد پر الزامات عائد کرنے کی جانب یہ پہلا قدم ہوگی۔ حکام نے یہ بتانے سے انکار کیا ہے چودہ زیر حراست افراد میں سے کس کی پیشی سب سے پہلے ہو گی یا آیا ان میں کتنے ایسے ہیں جنہوں نے اس کارروائی میں شرکت سے انکار کیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کے ترجمان چیٹو پیپلر نے کہا: ’ ہم نے اپنی پہلی سماعت کا آغاز کر دیا ہے اور مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ زیر حراست افراد کو دشمن جنگجو سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘ ایک دوسرے ترجمان بریان وِٹمین نے کہا ’ ان میں ایک تعداد ایسی ہے جو سماعت میں حاضر ہونا چاہتی ہے اور ایک تعداد ایسی ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ نہیں آئیں گے۔یہ دونوں اقسام کے لوگوں کا ایک اچھا مجموعہ ہے۔‘ کویتی اور پاکستانی پس منظر کے حامل خالد شیخ محمد، جنہیں مارچ دو ہزار تین میں پاکستان سے پکڑا گیا تھا، کے بارے میں امریکہ کے صدر جارج بش نے کہا تھا کہ یہ وہ شخص ہے ’جسے گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا سرغنہ سمجھا جاتا ہے۔‘ دوسرے بڑے مشتبہ شخص کا نام رمضی بن الشبیح ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ القائدہ کے سینیئر رکن ہیں۔ ان کا تعلق یمن سے ہے اور انہیں ستمبر دو ہزار دو میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تیسرے مشتبہ شخص سعودی نژاد ابو زبیدہ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ القائدہ میں نئے کارکنوں کی بھرتی کیا کرتے تھے۔ ابو زبیدہ کو بھی دو ہزار دو میں پاکستان سے پکڑا گیا تھا۔ ان تینوں کوگزشتہ سال ستمبر میں سی آئی اے کی جیلوں سے جزیرہ گوانتانامو منتقل کیا گیا۔
گروپ میں حنبلی نامی ایک انڈونیشیائی بھی شامل ہیں جنہیں جزیرہ بالی کے بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ دو ہزار دو میں کیے جانے والے ان دھماکوں میں دو سو سے زائد لوگ مارے گئے تھے۔ ماضی میں ہونے والے مقدموں میں آغاز میں بیرونی افراد کو ٹرائبیونل کی کارروائی دیکھنے کی اجازت دی جاتی تھی لیکن اب پینٹاگون نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ مقدمات اتنے حساس ہیں کہ ان کی آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ خاص طور پر یہ ہو سکتی ہے حکام کو خطرہ ہے کہ کہیں قیدی یہ نہ بتا دیں کہ انہیں کیسے پکڑا گیا تھا۔ جن باتوں کو خفیہ رکھنا ضروری سمجھا گیا، انہیں نکالنے کے بعد کارروائی کی تدوین شدہ تفصیلات ذرائع ابلاغ کودستیاب ہوں گی۔ زیر حراست افراد کے وکلاء کا کہنا ہے کارروائی کو خفیہ رکھنے کا یہ فیصلہ ٹرائبیونل میں سماعت کے سارے عمل کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ | اسی بارے میں گوانتانامو کے چودہ قیدیوں پر مقدمہ09 March, 2007 | آس پاس گوانتانامو: ’سول عدالتیں مجاز نہیں‘20 February, 2007 | آس پاس گوانتانامو: ’امریکہ کی مدد کریں‘22 January, 2007 | آس پاس گوانتانامو بے سے لکھے گئے خطوط27 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات07 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کو حقوق مل گئے11 July, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘30 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||