BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 March, 2007, 13:29 GMT 18:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ سے تعلق، 3 غیر ملکی رہا

 غیر ملکی رہا
گزشتہ سال جاوید ابراہیم پراچہ کی کوششوں سے الجیریا کے ایک باشندے کو رہا کیا گیا تھا
پاکستان کے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایک عدالت نے خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں القاعدہ سے تعلق کے الزام میں گرفتار تین غیرملکیوں کو رہا کر دیا ہے۔

عدالت نے ورلڈ پرزنرز ریلیف آرگنائزیشن کی جانب سے ضمانت دیئے جانے پر غیر ملکیوں کی رہائی کا حکم دیا۔ رہائی پانے والوں میں بنگلہ دیش کے حوالدر کبریا، ایران کے سکندر عزیزی، مراکش کے عبد الکریم عبد الحق مراکشی شامل ہے۔

جمعرات کے روز ورلڈ پرزنرز ریلیف آرگنائزیشن پاکستان کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ نے تینوں غیرملکیوں کو پشاور پریس کلب میں ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیا۔

جاوید ابراہیم پراچہ کے مطابق یہ غیر ملکی باشندے کئی ماہ تک ایجنسیوں کے تحویل میں رہنے کے بعد مختلف جیلوں میں منتقل کیے جاتے رہے اور ان کے خلاف چودہ فارن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیئے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ تینوں غیر ملکیوں کو دوران حراست ان کے ممالک نے ان کے شہری تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔

جاوید پراچہ کا کہنا تھا کہ مراکش کے شہری کو پانچ سال قبل جرمنی سے گرفتار کرکے پاکستان لایا گیا اور ان پر القاعدہ کا مالی معاونت کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ ایرانی شہری تبلیغ جماعت کے ساتھ اور بنگالی باشندہ پاکستان تجارت کرنے آیا تھا۔

دوسال تک قید کاٹ کر رہائی پانے والے مراکش کے باشندے عبد الکریم عبد الحق مراکشی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی ممالک میں جو بھی مسلمان مقیم ہے ان کو مجاہد اور القاعدہ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جرمنی میں کمپیوٹر سافٹ وئیر کا بزنس تھا لیکن ان پر القاعدہ سے تعلق کا الزام لگاکر گرفتار کیا گیا اور پھر تفتیش کےلئے پاکستان لایا گیا۔

بنگالی شہری حوالدار کبریا نے بتایا کہ وہ کراچی میں پان کا کاروبارکرتے تھے اور انہیں گجرات میں ایک مزار پر عرس کے دوران گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں تو ایک درویش آدمی ہوں میرا القاعدہ سے لینا دینا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان سے صرف پاکستانی حکام نے تفتیش کی اور دوران حراست ان پر کوئی تشدد بھی نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکہ میں گیارہ ستبر کے واقعہ کے بعد پاکستان نے سات سو کے قریب ملکی اور غیر ملکی افراد کو طالبان اور القاعدہ سے تعلق کے الزامات میں گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کرچکی ہیں جن میں زیادہ تر افراد کوگوانتانامو بے میں رکھا گیا۔ ان میں کئی قیدیوں کو امریکہ نے بے گناہ سمجھ کر رہا کیا جاچکا ہے جبکہ ایک بڑی تعداد ابھی بھی زیر حراست ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد