BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 April, 2007, 22:05 GMT 03:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمنٹ پرحملہ ہم نے کیا: القاعدہ
عراقی پارلیمان کی سکیورٹی پر سوال پیدا ہوگیا ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمرات کے روز عراق کی پارلیمان میں ہونے والے خودکش بم حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے تمام ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کا سامنا کرنے میں بغداد کی مدد کریں۔

اسی دوران القاعدہ سے مبینہ تعلق رکھنے والے ایک گروپ، اسلامک سٹیٹ عراق، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ ثابت کرنا ناممکن ہے کہ یہ دعویٰ کتنا سچا ہے۔

امریکی فوج کی جانب سے ملنے والے اعداد وشمار کے مطابق اِس حملے میں ایک رکن پارلیمان ہلاک اور بیس دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ اس سے پہلے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین سیاست دانوں سمیت آٹھ افراد بتائی گئی تھی۔

گزشتہ رات نیویارک میں اقوام متحدہ کی پندرہ رکنی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اِس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس دہشتگرد حملے میں جمہوری طریقے سے منتخب نمائندوں کی کونسل کو نشانہ بنایاگیا ہے۔

اِس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشتگردی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ناقابل جواز مجرمانہ کاروائی بھی ہے۔

بیان میں تمام رکن ممالک کو یہ باور بھی کرایا گیا ہے کہ یہ اُن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِس دھشت گرد حملے کی منصوبہ بندی اور سرمایہ فراہم کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے عراقی حکام سے تعاون کریں۔

اس سے پہلے القائدہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ اسلامک سٹیٹ آف عراق نے بغداد کے گرین زون میں واقع پارلیمان پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنی ویب سائیٹ پر اِسی نوعیت کے مزید طاقت ور حملوں کی دھمکی دی ہے۔

سپیکر محمود المشہدانی نے کہا کہ پارلیمان کا خصوصی سیشن ’تمام دہشت گردوں کے لیے چیلنج ہے جو عراق میں جمہوری عمل کو روکنا چاہتے ہیں۔‘

خصوصی سیشن کے دوران رکن پارلیمان محمد عوض کو خراج عقیدت پیش کی گئی۔

عراقی پارلیمنٹ بغداد میں انتہائی سکیورٹی والے گرین زون میں واقع ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے اس دھماکے کو جمہوریت پر ایک حملہ قرار دیا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ یہ امن اور استحکام کو برباد کرنے کا ایک حربہ ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ نے کہا ہے کہ یہ بیمار ذہنوں کی پیداوار ہے۔

پناہ گزین بچہ بڑھتے ہوئے مصائب
عراقی پناہ گزین جائیں تو کہاں جائیں؟
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
کربلا میں اربعین کی تقریباتکربلا میں اربعین
کربلا میں اربعین تقریبات میں ہزاروں شریک
اسی بارے میں
’عراق پالیسی ناقص ہے‘
11 April, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد