BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایرانی سفارت کار زخمی تھے‘
شریفی کو عراق میں نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا تھا
تہران میں بین الااقومی فلاحی ادارے ریڈ کراس کے سربراہ نے کہا ہے کہ عراق سے بازیاب ہونے والے ایرانی سفارت کار کے جسم پر انہوں نے زخموں کے نشانات دیکھے ہیں۔

پیٹر سٹوکر نے کہا ایرانی سفارت کار جلال شریفی کے پیروں ، ٹانگوں اور کمر کے علاوہ ناک کے نیچے بھی زخموں کے نشانات تھے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ یہ یقین سے نہیں کہ سکتے کہ یہ زخم تشدد کی وجہ سے ہی ہوئے تھے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے الزام عائد کیا کہ جلال شریفی کو عراق میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

شریفی کو اس سال فروری میں عراق سے اغواء کر لیا گیا تھا اور انہیں گزشتہ ہفتے رہا کیا گیا ہے۔ امریکہ اس معاملہ میں ملوث ہونے سے انکار کرتا ہے۔

شریفی نے جو بغداد میں ایرانی سفارت خانے میں ’سیکنڈ سیکریٹری‘ تھے کہا کہ انہیں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے تحت کام کرنے والے عراقی ایجنٹوں نے اغواء کیا تھا۔

ایران کےسرکاری نشریاتی اداروں نے شریفی کے حوالے سے بتایا کہ انہیں دن رات تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور ان سے عراق میں مزاحمت کاروں سے ایرانی حکومت کو مبینہ طور پر ملنے والی امداد کے بارے میں سوالات کیئے جاتے رہے۔

ایرانی ٹی وی نے شریفی کی ہسپتال میں علاج کے دوران تصاویر دکھائیں اور ان کے معالج کا انٹرویو بھی نشرکیا۔ اس انٹرویو میں ڈاکٹر نے دعویٰ کیا کہ شریفی کے پیروں پر ڈرل مشین سے چھید کیئے گئے، ان کی ناک کی ہڈی توڑ دی گئی، ان کا کان زخمی کردیا گیا اور گردن اور کمر پر بھی تشدد کے نشانات پائے گئے۔

ریڈ کراس کے سربراہ نے کہاکہ وہ شریفی سے ہسپتال میں مل کر خوش ہوئے کیونکہ انہیں وہ عراق میں تلاش نہیں کر سکے تھے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان گارڈن جونڈور نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ شریفی کے اغواء سے امریکہ کا کوئی تعلق نہیں اور وہ ان کی بازیابی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے ایرانی حکومت کی طرف سے کیئے جانے والے دعوؤں کو ’شعبدہ بازیاں‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے اصل مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔

شریفی کو تین اپریل کو پندرہ برطانوی قیدیوں کی ایران کی قید سے رہائی سے دو دن قبل رہا کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
’عراق پالیسی ناقص ہے‘
11 April, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد