سی آئی اے نے تشدد کیا: سفارتکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فروری کے دوران عراق میں اغوا ہونے والے ایک ایرانی سفارتکار کو رہائی مل گئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اغوا کرنے والوں اور سی آئی اے کے اہلکاروں نے اس پر تشدد کیاہے۔ جلال شرافی بغداد میں ایرانی سفارتخانے کے سیکریٹری دوم تھے۔ انہوں نے ایرانی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ایجنٹ ان سے عراق میں ایران کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کے انہیں اغواء کرنے والوں نے عراقی فوجی وردی پہن رکھی تھی۔ امریکی اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ وہ اغواء یا تشدد میں ملوث نہیں ہیں۔ ایرانی سفارتکار نے ایرانی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ان پر دن رات تشدد کیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں بغداد کی ایک سّک سے اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ خریداری کر رہے تھے اور انہیں جس نے اغواء کیا اس کے پاس عراقی وزارتِ دفاع کا شناختی کارڈ تھا۔ نائب سیکریٹری نے بتایا کہ انہیں بغداد کے کرادا ڈسٹرکٹ سے اغوا کیا گیا اور بغداد کے شہری ہوائی اڈے کے قریب واقع فوجی اڈے پر رکھا گیا اور ان سے عربی اور انگریزی میں پوچھ گچھ کی گئی۔ ان کے مطابق سی آئی اے ایجنٹوں کے سوالات زیادہ تر عراق میں ایرانی موجودگی اور عراقیوں پر ایران کے اثر و نفوذ کے بارے میں تھے۔ | اسی بارے میں عراق سے مغوی ایرانی سفارتکار رہا27 September, 2004 | آس پاس عراق میں ایرانی سفارتکار ہلاک15 April, 2004 | آس پاس برطانوی فوجی رہا کر دیے ہیں: ایران04 April, 2007 | آس پاس کوئی ڈیل نہیں ہوئی: بلیئر05 April, 2007 | آس پاس ’برطانیہ نے معافی مانگی ہے‘06 April, 2007 | آس پاس ’ایران میں ہم پر کیا گزری‘ 06 April, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی وطن پہنچ گئے05 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||