’ایران میں ہم پر کیا گزری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران سے رہائی پانے والے برطانوی بحریہ کے پندرہ اہلکاروں نے کہا ہے کہ تیرہ دن کی حراست کے دوران ان کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر قید تناہی میں رکھا گیا۔ ایران نے ان ہلکاروں کی پریس کانفرنس کو ایک حکومتی ڈرامہ قرار دیا ہے۔ رہائی پانےوالے ایک رکن نے کہا کہ انہیں ڈرانےکے لیے انہیں قطار میں کھڑا کردیا جاتا تھا اور ہتھیاروں کو گولیاں چلانے کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد انہیں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے یہ اعتراف نہ کیا کہ وہ ایران کی سمندری حدود سے گرفتار کیئے گئے ہیں تو انہیں سات سال قید کی سزا سنا دی جائے گی۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس پریس کانفرنس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے پراپیگنڈا کا ایک ہتھکنڈا قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد برطانوی فوجیوں کی غلطی کو چھپانا تھا۔ ایران کے دو اعلی حکام کے ایک نشری بیان میں کہا گیا کہ برطانوی بحریہ کے اہلکاروں کی پریس کانفرنس سے برطانیہ اور ایران کے تعلقات کو معمول پر لانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ لندن میں پریس کانفرنس کے دوران ان اہلکاروں نے کہا کہ گرفتاری کے وقت مزاحمت کرنا ٹھیک نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد ان سے تحقیقات کی جاتی رہیں، انہیں مستقل نفسیاتی دباؤ میں رکھا گیا اور ان سے ناروا سلوک کیا جاتا رہا۔ بحریہ کے ایک اہلکار کپٹن کرس ایئر نے کہا کہ ایرانیوں نے جب انہیں ایک معمول کی تلاشی کے دوران گھیرا تو ان کے پاس جوابی کارروائی کرنے کے لیے صرف چند سیکنڈ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ بہت سے لوگوں کو اعتراض ہے کہ کیوں انہوں نےاپنے آپ کو ایرانیوں کے حوالے کر دیا اور کیوں انہوں نے ایرانیوں کے کہنے پر ٹی وی پر آ کر اعترافی بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کے مزاحمت یا جوابی کارروائی کرنے کا کوئی سوال نہیں تھا۔ انہوں نے کہا ’مجھے یقین ہے کہ اگر ہم نے مزاحمت کی ہوتی تو آج ہم میں سے بہت سے آپ کے سامنے نہ ہوتے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر وہ مزاحمت کرتے تو لڑائی ہوتی جو وہ جیت نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جوابی کارروائی سے خطے میں حالات اور کشیدہ ہو جاتے اور حالات ایک بڑے عالمی بحران کی صورت اختیار کر سکتے تھے۔ برطانوی بحریہ کے عملے کے دو ارکان نے ایک تحریری بیان پریس کو پڑھ کر سنایا۔ لفٹیننٹ فیلکس کارمین اور سوانسی نے کہ میرین اور سیلرز تیئس مارچ کو ایرانی سمندری حدود سے ایک اعشاریہ سات ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک کارروائی میں مصروف تھے جب انہیں ایرانیوں نے گھیر لیا۔ کپٹن کرس ایئر نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے تقویض کئے گئے اختیار کے تحت معمول کی تلاشی پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھاری مشین گنوں سے مسلح انہیں چھ ایرانی کشتیوں نے گھیرے میں لے لیا۔ کپٹن کرس کے مطابق گرفتاری کے بعد انہیں تہران لیے جایا گیا جہاں ان کے کپڑے اُتروا کی صرف ایک پاجاما فراہم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کہا گیا کہ رہائی پانے کے لیے ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کا اعتراف کر لیں بصورت دیگر انہیں سات سال کی سزا سنا دی جائے گی۔ | اسی بارے میں ’برطانوی فوجیوں کا نیا اعتراف‘ 01 April, 2007 | آس پاس ’مسئلہ سنگین اور ایرانی رویہ ناقابلِ معافی ہے‘31 March, 2007 | آس پاس ایران: ایک اور ’اعترافی‘ وڈیو30 March, 2007 | آس پاس ’رہائی میں تاخیر ہو سکتی ہے‘29 March, 2007 | آس پاس ایران:’عالمی دباؤ ڈالنے کا وقت‘28 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی ’ہشاش بشاش‘ ہیں26 March, 2007 | آس پاس 15 برطانوی فوجی ایرانی قبضے میں23 March, 2007 | آس پاس ’برطانیہ نے معافی مانگی ہے‘06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||