BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 March, 2007, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران:’عالمی دباؤ ڈالنے کا وقت‘
بلیئر
اب وقت آگیا ہے کہ سفارتی اور بین الاقوامی دباؤ بڑھایا جائے
برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلئیر نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے خلیج سے پندرہ برطانوی بحریہ کے جوانوں اور ملاحوں کی گرفتاری کے معاملے پر اب وقت آ گیا ہے کہ ایران پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔

ٹونی بلئیر نے اِن افراد کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایران کی کارروائی کو غیر قانونی، غلط اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

بدھ کو برطانوی وزیراعظم نے پارلیمان میں خطاب کے دوران کہا’یہ اہلکار عراقی سمندری حدود میں اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت گشت کر رہے تھے۔ بھارتی تجارتی جہاز کی تلاشی ایک معمول کی کاروائی تھی لہذا ان کو پکڑنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ہم امید کر رہے تھے کہ انہیں جلد چھوڑدیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب وقت آگیا ہے کہ سفارتی اور بین الاقوامی دباؤ بڑھایا جائے تاکہ ایران کو اس معاملے پر اپنے مکمل طور پر تنہا ہونے کا احساس دلایا جا سکے‘۔

برطانوی وزیراعظم کے خطاب سے پہلے وزارت دفاع نے اِس بات کے ثبوت جاری کیے کہ برطانوی فوجی اور ملاح گرفتاری کے وقت عراق کی سمندری حدود میں تھے۔

آلات کے مطابق برطانوی اہلکار ایک اعشاریہ سات سمندری میل عراق کی سمندری حدود کے اندر تھے:برطانیہ

برطانوی فوج کے نائب سربراہ وائس ایڈمرل چارلس سٹائل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک کشتی سے حاصل کیے جانے والے گلوبل پوزیشنگ سسٹم کے آلات کے مطابق جب برطانوی اہلکاروں کو پکڑا گیا تو وہ شط العرب میں ایک اعشاریہ سات سمندری میل عراق کی سمندری حدود کے اندر تھے۔

وائس ایڈمرل سٹائیل نے مزید کہا کہ پہلے تو ایرانی حکام گرفتاری کے اس مقام سے متفق تھے لیکن بعد میں انہوں نے اسے ایرانی حدود کے اندر ظاہر کیا۔

ایران کا بدستور یہی موقف ہے کہ برطانوی فوجی اور ملاحوں نے ایرانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ ادھر ایک برطانوی حکومت کے ترجمان نے اِِن اطلاعات کو خوش آئند قرار دیا ہے کہ تہران شاید ترکی کے سفارتکاروں کو پکڑے جانے والے برطانوی فوجیوں اور اہلکاروں سے ملنے کی اجازت دے دے۔

تاہم برطانیہ کا اصرار ہے کہ برطانوی اہلکاروں کو پکڑے جانے والے ایک خاتون سمیت پندرہ فوجیوں اور ملاحوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد