BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 March, 2007, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران کا اقدام بلا جواز ہے‘
عراق میں مصروفِ عمل برطانوی بحریہ
برطانوی بحریہ کے فوجی عراق میں فرائض سر انجام دے رہے ہیں
برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ایران کا 15 برطانوی فوجیوں کو قبضے میں لینا غلط اور بلا جواز اقدام ہے۔

انہوں نے ایران کے خلیج فارس سے برطانوی فوجیوں کو گرفتار کرنے کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران جانتا ہے کہ برطانیہ کے نزدیک یہ معاملہ کس قدر اہم ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر برطانیہ کے اس موقف کو دہرایا کہ ایران کے دعوے کے برعکس برطانوی فوجی ایرانی پانیوں میں موجود نہیں تھے۔

اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی سفارت کاروں کو یہ نہیں بتا سکتے کہ تین دن قبل خلیج فارس سے قبضے میں لیے جانے والے برطانوی فوجیوں کو کہاں رکھا گیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے حکام سے ملاقات کے بعد برطانوی سفیر جیوفرے ایڈم نے ایک بار پھر برطانیہ کی اپنے فوجیوں کی رہائی کی بات دہرائی ہے۔

دریں اثناء ایران کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں نے ایرانی سمندری حدود میں ’غیر قانونی طور پر داخلے‘ کا اعتراف کرلیا ہے اور ان کی رہائی کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔

دوسری طرف ایران میں سخت گیر موقف رکھنے والے طلباء نے برطانوی بحریہ کے پندرہ فوجیوں پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا نظر آتا ہے کہ ایران نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ فوجیوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے خبر دی ہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو برطانوی سفیر کو اپنے دفتر میں طلب کرکے ان سے برطانوی فوجیوں کی ایرانی سمندری حدود میں ’غیر قانونی طور پر داخلے‘ پر احتجاج کیا ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

برطانیہ اور امریکہ کا کہنا ہے کہ قبضے میں لیے جانے فوجی عراقی پانیوں میں ایک عراقی کشتی کی تلاش کام مکمل کر کے لوٹے ہی تھے کہ انہیں فوراً ’گرفتار‘ کر لیا گیا تاہم ایران کا کہنا ہے کہ یہ برطانوی فوجی ’غیر قانونی‘ طور پر ایران کی سمندری سرحدوں کو عبور کر چکے تھے۔ برطانیہ اور یورپی یونین فوجیوں کی رہائی کے لیے ایران پر سفارتی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

قبضے میں لیے جانے والے فوجیوں کا تعلق برطانوی بحریہ کے جہاز ’ایچ ایم ایس کارنیول‘ سے ہے

اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے خبر دی تھی کہ ایرانی افواج نے برطانوی بحریہ کے پندرہ فوجیوں کو تہران منتقل کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پندرہ برطانوی فوجیوں سے ان کے ’جارحانہ‘ رویہ پر سوال کیے جائیں گے۔ فارس کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانوی بحریہ کی جنگی کشتیوں پر لگے سیٹلائٹ نظام سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ کشتیاں ایرانی پانیوں میں تھیں۔ تاہم بعد میں خبر رساں ادارے فارس نے یہ خبر اپنی ویب سائٹ سے اتار لی اور اس خبر کی تصدیق یا تردید کے بارے میں کوئی خبر جاری نہیں کی۔

لندن میں فارن آفس کے ایک نائب وزیر کا کہنا ہے کہ برطانوی حکام ابھی تک پکڑے جانے والے پندرہ فوجی، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں، کے بارے میں لاعلم ہیں کہ وہ کہاں ہیں؟

واضح رہے کہ قبضے میں لیے جانے والے پندرہ برطانوی فوجیوں کا تعلق برطانوی بحریہ کے جہاز ’ایچ ایم ایس کارنیول‘ سے ہے جو عراقی پانیوں میں مقیم اتحادی فوجیوں کا پرچم بردار جہاز ہے۔ اس کا مرکزی مقصد ان پانیوں میں ہونے والی سمگلنگ کو روکنا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران کے ایٹمی تنازعے پر مغربی ممالک اور ایران کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں عراق کے شہر بصرہ میں برطانوی فوجیوں کے خلاف تشدد کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

امریکہ کو ’پیشکش‘
’حزب اللہ کی مدد بند کرنے کی پیشکش کی‘
ایرانی صدر محمد احمدی نژادصدر احمدی نژاد
سلامتی کونسل سے خطاب کی خواہش
بحری جہاز’امریکی مشقیں‘
خلیج فارس میں مجوزہ امریکی جنگی مشقیں اشتعال انگیز ہیں: ایران
ایرانی جوہری پلانٹایران نیوکلیئر
سکیورٹی کونسل کے لیے نیا مسودۂ قرارداد تیار۔
اسی بارے میں
برطانوی فوجی کا اقرار جرم
19 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد