’ایران کا اقدام بلا جواز ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ایران کا 15 برطانوی فوجیوں کو قبضے میں لینا غلط اور بلا جواز اقدام ہے۔ انہوں نے ایران کے خلیج فارس سے برطانوی فوجیوں کو گرفتار کرنے کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران جانتا ہے کہ برطانیہ کے نزدیک یہ معاملہ کس قدر اہم ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر برطانیہ کے اس موقف کو دہرایا کہ ایران کے دعوے کے برعکس برطانوی فوجی ایرانی پانیوں میں موجود نہیں تھے۔ اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی سفارت کاروں کو یہ نہیں بتا سکتے کہ تین دن قبل خلیج فارس سے قبضے میں لیے جانے والے برطانوی فوجیوں کو کہاں رکھا گیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے حکام سے ملاقات کے بعد برطانوی سفیر جیوفرے ایڈم نے ایک بار پھر برطانیہ کی اپنے فوجیوں کی رہائی کی بات دہرائی ہے۔ دریں اثناء ایران کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں نے ایرانی سمندری حدود میں ’غیر قانونی طور پر داخلے‘ کا اعتراف کرلیا ہے اور ان کی رہائی کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔ دوسری طرف ایران میں سخت گیر موقف رکھنے والے طلباء نے برطانوی بحریہ کے پندرہ فوجیوں پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا نظر آتا ہے کہ ایران نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ فوجیوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے خبر دی ہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو برطانوی سفیر کو اپنے دفتر میں طلب کرکے ان سے برطانوی فوجیوں کی ایرانی سمندری حدود میں ’غیر قانونی طور پر داخلے‘ پر احتجاج کیا ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ برطانیہ اور امریکہ کا کہنا ہے کہ قبضے میں لیے جانے فوجی عراقی پانیوں میں ایک عراقی کشتی کی تلاش کام مکمل کر کے لوٹے ہی تھے کہ انہیں فوراً ’گرفتار‘ کر لیا گیا تاہم ایران کا کہنا ہے کہ یہ برطانوی فوجی ’غیر قانونی‘ طور پر ایران کی سمندری سرحدوں کو عبور کر چکے تھے۔ برطانیہ اور یورپی یونین فوجیوں کی رہائی کے لیے ایران پر سفارتی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے خبر دی تھی کہ ایرانی افواج نے برطانوی بحریہ کے پندرہ فوجیوں کو تہران منتقل کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پندرہ برطانوی فوجیوں سے ان کے ’جارحانہ‘ رویہ پر سوال کیے جائیں گے۔ فارس کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانوی بحریہ کی جنگی کشتیوں پر لگے سیٹلائٹ نظام سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ کشتیاں ایرانی پانیوں میں تھیں۔ تاہم بعد میں خبر رساں ادارے فارس نے یہ خبر اپنی ویب سائٹ سے اتار لی اور اس خبر کی تصدیق یا تردید کے بارے میں کوئی خبر جاری نہیں کی۔ لندن میں فارن آفس کے ایک نائب وزیر کا کہنا ہے کہ برطانوی حکام ابھی تک پکڑے جانے والے پندرہ فوجی، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں، کے بارے میں لاعلم ہیں کہ وہ کہاں ہیں؟ واضح رہے کہ قبضے میں لیے جانے والے پندرہ برطانوی فوجیوں کا تعلق برطانوی بحریہ کے جہاز ’ایچ ایم ایس کارنیول‘ سے ہے جو عراقی پانیوں میں مقیم اتحادی فوجیوں کا پرچم بردار جہاز ہے۔ اس کا مرکزی مقصد ان پانیوں میں ہونے والی سمگلنگ کو روکنا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران کے ایٹمی تنازعے پر مغربی ممالک اور ایران کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں عراق کے شہر بصرہ میں برطانوی فوجیوں کے خلاف تشدد کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں برطانوی فوجیوں نے’اعتراف‘ کرلیا24 March, 2007 | آس پاس 15 برطانوی فوجی ایرانی قبضے میں23 March, 2007 | آس پاس ایران پر مزید پابندیاں عائد24 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی کا اقرار جرم19 September, 2006 | آس پاس برطانوی فوجیوں کے لیئے معافی16 August, 2006 | آس پاس برطانوی فوجیوں کے خلاف کارروائی20 July, 2005 | آس پاس برطانوی فوجی پرجاسوسی کاالزام21 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||