 | | | ایران کہتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے |
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے متفقہ طور پر ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ یہ پابندیاں ایران کے اپنے ایٹمی پروگرام معطل نہ کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔ سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کی جانے والی یہ پابندیاں دسمبر 2006 میں ایران پرعائد کی جانے والی پابندیوں سے وسیع تر ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے نئی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کو ’غیرقانونی‘ قرار دیا ہے۔ نئی پابندیوں کے تحت ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کے لیے کام کرنے والے افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کردیے جائیں گے اور ایران کو اسلحے کی فروخت پر پابندی ہوگی۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ متقی نے سلامتی کونسل کو بتایا: ’ایران لڑائی نہیں چاہتا اور اپنے بنیادی حقوق سے زیادہ بھی کچھ نہیں چاہتا۔‘  |  انٹرنیشنل ایٹومِک اینرجی ایجنسی اور سلامتی کونسل کی پہلے کی قرارادادوں پر ایران کی جانب سے عمل نہ کرنے کی ہم مخالفت کرتے ہیں اور ایران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی عالمی ذمہ داریوں پر عمل پیرا ہو۔  برطانوی سفیر ایمیرجونز پیری |
وزیر خارجہ متقی نے مزید کہا: ’میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ دباؤ اور دھمکیاں ایران کی پالیسی نہیں بدل سکتی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام معطل کرنا مسئلے کا حل نہیں۔منوچہر متقی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سلامتی کونسل سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر اپنے پرامن نیوکلیئر پروگرام کو معطل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا سلامتی کونسل کا فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا ٹریویلین کے مطابق سلامتی کونسل کے اراکین کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے کا متفقہ فیصلہ ایران کے لیے اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام ناقابل قبول ہے۔ اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر ایمیر جونز پیری نے کہا کہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد 1747 کی متفقہ حمایت ایران کے ایٹمی پروگرام پر بین الاقوامی برادری کے خدشات کی ترجمان ہے۔ برطانوی سفیر نے سکیورٹی کونسل کی جانب سے ایک بیان میں کہا کہ ’انٹرنیشنل ایٹومِک اینرجی ایجنسی اور سلامتی کونسل کی پہلے کی قرارادادوں پر ایران کی جانب سے عمل نہ کرنے کی ہم مخالفت کرتے ہیں اور ایران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی عالمی ذمہ داریوں پر عمل پیرا ہو۔‘ ایران پر پابندیوں کی نئی قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین برطانیہ، امریکہ، چین، فرانس اور روس نے جرمنی کے ساتھ ملکر تیار کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہیویئر سولانا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے راستے ابھی بھی کھلے ہیں۔ ایران کے صدر احمدی نژاد سنیچر کو سلامتی کونسل کے سامنے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے حاضر ہونا چاہتے تھے لیکن انہوں نے آخری وقت اپنا یہ فیصلہ ترک کردیا۔ ان کی جگہ سلامتی کونسل میں ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی موجود تھے۔ |