احمدی نژاد کی امریکہ پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی تقریر کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کے ایرانی امور کے ماہر صادق صبا نے کہا ہے کہ یہ ایک ’مخصوص سرکش‘ تقریر تھی۔ انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ اپنی فوجی طاقت کی وجہ سے دنیا پر غلبہ حاصل کر رہا ہے اور چھوٹی قوموں کو محکوم بنا رہا ہے۔ انہوں نے جہاں امریکہ کے خلاف کھل کر باتیں کیں وہاں دنیا میں ناانصافی اور امتیاز کو ختم کرنے پر بھی زور دیا۔ ان کی اس تقریر سے کئی مسلمان اور احمدی نژاد جیسے وہ افراد جو امریکی پالیسیوں سے خوش نہیں وہ شاید اس کا خیر مقدم کریں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جیسے بڑے فورم کا استعمال کرتے ہوئے انہوں تمام قوموں کے حقوق کی بات کرکے بظاہر یہ تاثر دیا کہ وہ دنیا کے ایک بڑے لیڈر ہیں۔ اس طرح کا ہر دلعزیز موقف دنیا کے مختلف حصوں میں تو ان کی اپیل کی حمایت حاصل کرسکتا ہے۔ لیکن مقامی طور پر احمدی نژاد کو ایران کے متوسط اور باالخصوص امیر طبقوں میں وسیع حمایت حاصل نہیں۔ ان کا جوہری پروگرام تو اب بھی ایران کے عوام میں مقبول ہے لیکن ملک میں اقتصادی مشکلات اور بے روزگاری بڑھنے کی شکایات بھی تواتر سے سننے کو ملتی ہیں۔ ایران میں انسانی حقوق کے بعض کارکن کہتے ہیں کہ ایک طرف ایرانی صدر دنیا میں میرٹ، انصاف اور آزدی کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے ہی ملک میں آزادیاں صلب کر رکھی ہیں۔ حال ہی میں دو سیاسی کارکن جیل میں مشکوک حالات میں ہلاک ہوگئے اور ایران میں آزادانہ خبریں فراہم کرنے والا ایک اخبار ’شرگ‘ بھی ایک ہفتہ قبل بند کردیا گیا۔ یہ اخبار اب تک کا واحد اخبار تھا جو غیر جانبدار اور درست خبریں فراہم کرنے کا ذریعہ تھا۔ | اسی بارے میں برطانیہ ایرانی صدر کے بیان سے مایوس18 September, 2005 | صفحۂ اول ایران کے خلاف قرارداد مثبت: امریکہ25 September, 2005 | صفحۂ اول ’ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے‘12 January, 2006 | آس پاس ایران کی ویب سائٹ بند24 January, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||