ایران کی ویب سائٹ بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے امریکی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے امریکہ کے ایک انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے ادارے کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ایران کی ایک خبر رساں ایجنسی کی میزبانی ختم کر دے۔ ایران کی سٹوڈینٹس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ میزبان سرور فراہم کرنے والے ادارے نے اسے معاہدہ ختم کرنے پر کوئی وضاحت نہیں دی۔ اِسنا خبر رساں ادارے کا جو ایران میں کافی مقبول ہے، کہنا ہے کہ اس نے اپنی ویب سائٹ چلانے کے لیے اب کسی اور ادارے سے رجوع کیا ہے۔ تاہم امریکی سرور فراہم کرنے والے پلینٹ نامی ادارے نے کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ لیکن ایران میں اب لوگوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی بنائے تاکہ اس طرح کی مشکلات پیش نہ آئیں۔ اسنا نے کہا ہے کہ اسے پلینٹ نامی ادارے سے ای میل موصول ہوئی ہے جس میں اسے کہا گیا ہے کہ اس کی ویب سائٹ کی سہولت اگلے اڑتالیس گھنٹے میں ختم ہو جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ناقابلِ تنیسخ ہے اور اس پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ اسنا کے مطابق اس نے پلینٹ نامی ادارے کو کئی ای میل بھیجی ہیں اور اسے فون بھی کیا ہے لیکن معاہدے کی خلاف ورزی پر کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔ ادھر ایران میں اسلامک گائیڈینس کی وزارت نے جو میڈیا سے متعلق معاملات پر نظر رکھتی ہے، کہا ہے کہ ایرانی ویب سائٹ کو ختم کرنے کا حکم امریکی حکومت نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا ایران یورپ اور امریکہ پر اعتبار کیسے کرے۔ تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیرسن کہتی ہیں کہ اس واقعہ سے ایران اور دوسرے اسلامی ممالک پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ سیٹلائٹ کی مواصلاتی ٹیکنالوجی بنائیں تاکہ اسے اس قسم کے مسائل در پیش نہ ہوں۔ اگر ایسا ہوگیا تو اسلامی ممالک اپنی ویب سائٹس چلانے کے لیے کسی کے محتاج نہ رہیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||