سلامتی کونسل سے خطاب کی خواہش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی صدر محمد احمدی نژاد اپنے ملک کے متنازع ایٹمی پروگرام کے دفاع کے لیے سلامتی کونسل سے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ ایران نے یورنیم کی افزودگی روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے مطالبے کا انحراف کیا ہے اور مغربی اقوام کا خیال ہے کہ ایران کے اس ایٹمی پروگرام کا مقصد ایٹمی اسلحہ تیار کرنا ہے۔ اس کے بر خلاف ایران کا موقف مسلسل یہ رہا ہے کہ اس کا مقصد محض ایٹمی توانائی کا حصول ہے۔ ایرانی صدر 2005 سے اب تک دو بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر چکے ہیں لیکن انہوں نے اب تک سلامتی کونسل سے خطاب نہیں کیا۔ ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے ایران کے ایک حکومتی ترجمان کا یہ بیان نشر کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سلامتی کونسل کے اس اجللاس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں جو ایران کے بارے میں پابندیوں کے فیصلے کرنے کے لیے ہونے والا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایرانی صدر اس اجلاس میں اس لیے شرکت کرنا چاہتے ہیں کہ ایٹمی معاملے پر اپنے ملک کا دفاع کر سکیں۔
سلامتی کونسل دسمبر میں ہونے والے اجلاس کے دوران یورنیم کی افزودگی نہ روکنے کی وجہ سے ایران پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرنے والی ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس، چین اور جرمنی کے نمائندے ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تہران سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ ایرانی صدر کا خطاب مغربی ممالک کے موقف میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے گا۔ ایرانی صدر، ایران کے ایٹمی پروگرام کو مغربی دباؤ کی بنا پر بند کرنے کی مخالفین کرنے والے ایرانیوں میں سب سے سخت گیر تصور کیے جاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ایران کے خلاف پابندیوں پر اختلاف11 March, 2007 | آس پاس اسرائیل اور ایران ’سب سے بُرے‘06 March, 2007 | آس پاس ’ایران حملےکےنتائج الٹ ہو سکتے ہیں‘05 March, 2007 | آس پاس ایران پر حملے سے کیا حاصل ہوگا؟05 March, 2007 | آس پاس ایران پر پابندیاں، اہم پیش رفت03 March, 2007 | آس پاس ایران پر نئی پابندیوں پر غور27 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||