ایران پر حملے سے کیا حاصل ہوگا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برطانوی سائنسدان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران پر فوجی حملہ سے اس کا جوہری پروگرام رکنے کی بجائے تیز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے سے جوہری پروگرام کے لیے ایرانیوں کی حمایت میں اضافہ ہو گا اور ایران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں تیز ہو جائیں گی۔ رپورٹ کے خالق فرینک بارنبی کہتے ہیں کہ ایران پر حملہ میں اس کی تمام جوہری تنصیبات شاید نہ تباہ ہوں اور حملے کے نتیجے میں ایران کی حکومت کے لیے جوپری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے اپنے آپ کو الگ کرنا آسان ہو جائے گا۔ ایران کی حکومت اس بات سے انکار کرتی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری ٹیکنالوجی پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ جوہری معاملات کے لیے اقوام متحدہ کا نگراں ادارہ آئی اے ای اے ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کی تردید یا تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
انیس سو چورانوے میں امریکہ میں شمالی کوریا کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بہت قریب آ گیا تھا۔ اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس جاری ہی تھا جب شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی خبر آ گئی تھی۔ انیس سو ستر کی دہائی کے آخر میں پاکستان کے کہوٹہ پلانٹ پر حملے کے بارے میں بھی غور کیا گیا تھا لیکن کامیابی کے امکانات کو کم سمجھتے ہوئے یہ ارادہ ترک کر دیا گیا۔ تاہم اس سلسلے میں ایک اہم مثال انیس سو اکیاسی میں اسرائیل کے عراق کی جوہری تنصیبات پر حملے کی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کے آٹھ طیاروں نے نوے سیکنڈ میں عراق کا جوہری پلانٹ تباہ کر دیا تھا۔ کیا امریکہ تنہا یا اسرائیل کے ساتھ مِل کر ایران پر ایسا حملہ کر سکتا ہے؟ لیکن کیا عراق کے جوہری تنصیبات پر اس حملے کے بعد اس کا جوہری پروگرام ختم یا سست ہو گیا تھا؟ اسرائیلی حملے سے عراقی صدر صدام حسین کے ارادے میں تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے نہ صرف اپنی حکمت عملی بدل دی تھی بلکہ ایٹمی بم کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی تھیں۔ ایران اور دیگر ممالک نے عراق سے سبق سیکھتے ہوئے جوہری تحقیق کا کام مختلف مقامات پر جاری رکھا ہوا ہے۔ ایران نے اپنے ایک زیر زمین جوہری پلانٹ ناتانز کے لیے ایسے حفاظتی انتظامات کیے ہیں کہ شاید بنکر تباہ کرنے والے بم بھی وہاں کام نہ آئیں۔ اس کے علاوہ جوہری تنصیبات انتی زیادہ ہیں کہ حملہ آور کو یقین نہیں ہوگا کہ آیا وہ سب تباہ ہو گئیں۔ اس طرح حملے میں بہت سی تنصیبات کے بچ جانے کا امکان بھی موجود ہے۔ لیکن فرینک بارنبی اور آکسفورڈ ریسرچ گروپ کی اس اس رپورٹ میں اس بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا گیا وہ یہ کہ کارروائی نہ کرنے کے نتائج کیا ہوں گے اور اگر ایران نے واقعی ایٹم بم بنا لیا تو کیا ہوگا۔ ایسی صورت میں ایک تو ایران کا خطے کے ممالک کے ساتھ رویہ جارحانہ ہو سکتا ہے جن میں اسرائیل اور دیگر خلیجی ممالک شامل ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو سعودی عرب اور مصر جیسے ملک بھی جوہری اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہونے کے بارے میں سوچیں گے۔ | اسی بارے میں میزائل تجربہ،’ایران کے لیے پیغام‘12 February, 2007 | آس پاس ’ایران حملےکےنتائج الٹ ہو سکتے ہیں‘05 March, 2007 | آس پاس ایران پر امریکی صدر کا دباؤ14 February, 2007 | آس پاس ایران کو کونڈولیزا رائس کی پیشکش26 February, 2007 | آس پاس ایران پر پابندیاں، اہم پیش رفت03 March, 2007 | آس پاس امریکہ، ایران اور شام سے بات پر تیار27 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||