 | | | مبصرین کے خیال میں صدر بش ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں |
صدر جارج بش نے کہا ہے کہ انہیں ’یقین‘ ہے کہ ایران کے ’انقلابی گارڈز‘ کی ایک شاخ عراق میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے کچھ حملوں سے منسلک ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ انہیں ’یقین‘ ہے کہ ایران ’ای ای پی‘ نامی اسلحہ عراق میں فراہم کررہا ہے جس کا استعمال کئی حملوں میں ہوا ہے۔ تاہم جارج بش کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ایران کے سینیئر رہنما اس میں ملوث ہیں یا نہیں۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ وہ ایران پر حملوں کی تیاری کررہے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بیان بغداد میں سکیورٹی بحال کرنے کی اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے دیا۔ صدر بش نے اعتراف کیا کہ بغداد میں سکیورٹی قائم کرنے میں وقت لگے گا اور تشدد جاری رہے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ عراق میں امریکہ کی کامیابی اہم ہے۔ ’اگر ہم وہاں ناکام ہوتے ہیں، تو دشمن یہاں تک ہمارا پیچھا کرے گا۔ مجھے اس پر پورا یقین ہے۔‘ امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کے روز جارج بش کی عراق پالیسی کی مخالفت کرنے والی ایک قرارداد پر بحث شروع کی ہے۔ امید ہے کہ یہ قرارداد منظور ہوجائے گی تاہم صدر بش کے لیے اس پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے۔  | امریکی صدر پر سیاسی دباؤ  امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کے روز جارج بش کی عراق پالیسی کی مخالفت کرنے والی ایک قرارداد پر بحث شروع کی ہے۔ امید ہے کہ یہ قرارداد منظور ہوجائے گی تاہم صدر بش کے لیے اس پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے۔  |
مبصرین کے مطابق امریکی صدر کا ایران کے متعلق بیان ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ اختتام ہفتہ کو بغداد میں امریکی اہلکاروں نے کہا تھا کہ ایرانی حکومت میں ’اعلیٰ سطح کے اہلکار‘ عراق میں شیعہ مزاحمت کاروں کو اسلحہ فراہم کررہے ہیں۔لیکن امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے، جن میں چیف آف جوائنٹ اسٹاف جنرل پیٹر پیس شامل ہیں، گزشتہ چند دنوں میں اس الزام کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔ بدھ کے روز جارج بش نے کہا کہ ایران کا ’القدس فورس‘ جو کہ انقلابی گارڈز کی ایک شاخ ہے عراق میں اسلحے کا ذریعہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ کس کے حکم پر ایسا کیا جارہا ہے۔ صدر بش نے کہا: ’مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کس نے فون اٹھایا اور القدس فورس سے کہا: جاؤ ایسا کرو۔‘ ایران کے انقلابی گارڈز سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنئی کو جوابدہ ہیں۔ امریکی صدر نے اس الزام سے انکار کیا کہ وہ ایران کو بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عراق میں امریکی فوج کا تحفظ چاہتے ہیں۔ جارج بش کے بیان سے یہ بھی ظاہر تھا کہ امریکہ اس وقت ایران سے براہ راست بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ ’اگر مجھے ایسا لگتا کہ ہمیں کامیابی مل جاتی، تو میں ایران کے ساتھ بات کرتا۔‘
|