اختلافات: ’ارنا‘ کے سربراہ مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے سربراہ احمد خادم الملہ اختلافات کی بنا پر مستعفی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسعفے کے بعد کہا ہے کہ ان کے ایرانی وزیر برائے ثقافت اور اسلامی رہنمائی محمد حسين صفارہ رندی سے اختلافات تھے۔ اس سلسلے میں ارنا نے خادم الملہ کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جو حالات تھے ان میں یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ کام جاری رکھ سکتے اس لیئے وہ مستعفی ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے وزیر برائے ثقافت اور اسلامی رہنمائی محمد حسين صفارہ رندی سے ایران کے سرکاری اخبار ’ایران‘ اور ایرانی پریس انسٹیٹیوٹ کو چلانے کی پالیسی سمیت کئی امور پر اختلافات تھے۔ احمد خادم الملہ کو گزشتہ سال صدر احمدی نژاد کے صدر منتخب ہونے کے بعد وزیر برائے ثقافت اور اسلامی رہنمائی محمد حسين صفارہ رندی نے ہی ارنا اور اور دیگر اداروں کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ | اسی بارے میں ایران: کینیڈین صحافی کی موت16.07.2003 | صفحۂ اول اکبرگنجی چھ سال بعد رہا ہوگئے 18 March, 2006 | آس پاس اکبرگنجی نے احتجاج ختم کردیا22 August, 2005 | آس پاس اکبر گنجی کی رہائی کی اپیل مسترد24 April, 2005 | آس پاس ’ایشیا میں صحافتی آزادی سب سے کم‘03 May, 2004 | آس پاس آزادئی صحافت پر حملے کی مذمت08 November, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||