’ایشیا میں صحافتی آزادی سب سے کم‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافتی آزادی کی نگرانی کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نے کہا ہے کہ ایشیا کے خطے میں صحافتی آزادی دیگر دنیا کی نسبت سب سے کم ہے۔ ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایشیا میں گزشتہ برس دو سو سے زائد صحافیوں کو جیل میں ڈالا گیا، کم از کم سولہ کا قتل ہوا اور تین کو سزائے موت سنائی گئی۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ چین صحافتی پابندی عائد کرنے کے حوالے سے سب سے سخت ملک ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں 27 صحافی جیل میں قید ہیں۔ چین کے علاوہ اس رپورٹ میں پاکستان، برما، سری لنکا اورنیپال کے نام بھی خاص طور پر لیے گئے ہیں۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ سری لنکا کی حکومت سن دو ہزار میں بی بی سی کے ایک نمائندے کی ہلاکتکے ذمہ دار افراد کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔ صحافیوں کی ایک اور بین الاقوامی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صحافیوں کے لئے بنگلہ دیش سب سے زیادہ پر تشدد ملک ہے جہاں روزانہ ہی حملے اور دھمکیوں کے واقعات عام ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||