BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’باعصمت ہونا` اب بھی ایک اہم ہے

عبیر سعدی مصری روزنامے اخبارالیوم میں صحافی کی حیثیت سے کام کرتی ہیں
عبیر سعدی مصری روزنامے اخبارالیوم میں صحافی کی حیثیت سے کام کرتی ہیں
(عبیر سعدی کی عمر اٹھائیس سال ہے۔ وہ مصری روزنامے اخبارالیوم میں صحافی کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں)


میری پردادی اپنے زمانے میں اپنے پسند کے شخص کو شادی کی دعوت دے سکتی تھیں۔ یہ قدیم مصر میں ان کی آزادی کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بہت بعد میں جب یونانیوں نے مصر پر حملہ کیا تو انہوں نے ایسا قانون بنایا جس سے مصری خواتین کے حقوق کافی متاثر ہوئے۔

لیکن خواتین کی آزادی کا مطلب صرف یہی نہیں کہ ان کے اسکرٹ کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے۔ خواتین کی آزادی کے مطلب صرف ظاہری بناوٹ ہی نہیں بلکہ اس کے معنی بڑے وسیع ہیں۔

کیا آپ اسے منطقی سمجھتے ہیں کہ ہم خواتین کی آزادی کے معیارات مغرب سے مستعار لیں۔ حقیقت میں ہمارے علاقے میں بہت سے لوگ یہی کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم مشرق کی طرف دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ عربوں نے ہمیں صرف اسلام ہی کا تحفہ نہیں دیا بلکہ اس کے ساتھ انہوں نے اپنی تہذیب سے بھی ہمیں روشناس کرایا۔ میرے خیال میں ہمیں ان دونوں میں تمیز کرنی چاہیے تھی۔

میں سمجھتی ہوں کہ نوجوان مصری صحافیوں کی حیثیت سے یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم خواتین کی آزادی کے نئے معیارات قائم کریں جن کی بنیاد ہماری اپنی تہذیب اور ضروریات ہوں۔ ایک مصری لڑکی کی طور پر میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ میری پردادی زیادہ خوش قسمت تھیں کیونکہ ان کے آزادی کے معیار کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ قومیت تھی۔

ہم مصری خواتین اپنے ہمسایہ ممالک سے زیادہ آزاد سمجھی جاتی ہیں۔ ہمیں سعودی عرب کی خواتین کی طرح خاص طرز کا لباس نہیں پہننا پڑتا۔ مصری خواتین کو اپنی تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر طرح کا لباس پہننے کی اجازت ہے۔ میں سر پر سکارف نہیں لیتی اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔

لڑکے اور لڑکیوں کے آپس میں تعلقات کے معاملے میں مصری قدامت پرست واقع ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں محبت کی شادیاں بھی ہوتی ہیں جو ناکام بھی ہوتی ہیں اور کامیاب بھی۔ مصر میں لڑکے اور لڑکیوں کے آپس میں مختصر دورانیے کے تعلقات کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے تعلقات کی وجہ سے سماجی مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔

شادی کرنے والی لڑکی کے لئے ’باعصمت ہونا` اب بھی ایک اہم معاملہ سمجھا جاتا ہے لیکن کبھی کبھار دلہا دلہن کے باکرہ نہ ہونے کو مسئلہ نہیں بھی بناتے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد