’مقتدٰی الصدر ایران چلے گئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ شیعہ رہنما مقتدٰی الصدر عراق چھوڑ کر ہمسایہ ملک ایران جا چکے ہیں۔ امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ مقتدٰی الصدر دو سے تین ہفتے قبل بذریعہ کار تہران کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ تاہم مقتدٰی الصدر کے ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ مقتدٰی الصدر کی روانگی کی خبر پہلے ایک امریکی ٹیلیویژن چینل پر نشر ہوئی تھی اور اس میں کہا گیا تھا مقتدٰی نے اتحادی فوج کی جانب سے اپنے ٹھکانوں پر بمباری کے خطرے کے پیشِ نظر ملک چھوڑا اور ان کے ہمراہ ان کی تنظیم کے اہم اراکین بھی گئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکی حکام مقتدٰی الصدر کی مہدی ملیشیا کو عراقی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں اور امریکی فوج نے حالیہ مہینوں میں مقتدٰی الصدر کے سینکڑوں حامیوں کو ہلاک یا گرفتار کیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں مقتدٰی کی تنظیم کے سینئر رکن حکیم الزمیلی بھی شامل ہیں۔ امریکہ نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے بھی کہا ہے کہ وہ مہدی ملیشیا کوغیر مسلح کروائیں۔ تاہم عراقی وزیراعظم کی حکومت خاصی حد تک مقتدٰی الصدر کی سیاسی حمایت پر انحصار کرتی ہے۔ | اسی بارے میں عراق کے نائب وزیرِ صحت گرفتار08 February, 2007 | آس پاس مقتدی الصدرکے چھ سو حامی گرفتار23 January, 2007 | آس پاس بغداد: نئے سکیورٹی منصوبے کا اعلان13 February, 2007 | آس پاس بغداد میں دھماکے، 70 ہلاک12 February, 2007 | آس پاس مقتدیٰ الصدر کی اپیل پر مظاہرہ09 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||