BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 February, 2007, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد میں دھماکے، 70 ہلاک
آیت اللہ علی سیستانی نے اہلِ تشیع سے کہا ہے کہ وہ سنی طبقے کے خلاف فرقہ وارانہ انتقامی کارروائی نہ کریں
عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایک کاروباری مرکز میں تین بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ دو بم الشورجہ مارکیٹ میں یکے بعد دیگرے پھٹے جن میں تیس افراد ہلاک ہوئے۔

اس سے آدھ گھنٹہ قبل الشارقی مارکیٹ میں پارسل بم کے دھماکے میں دس افراد مارے گئے تھے۔

ایک سال قبل آج ہی کے دن سمارہ میں شیعہ زائرین کے ایک مقدس مقام پر بم حملہ ہوا تھا۔عراقیوں سے کہا گیا تھا کہ سمارہ دھماکے کی یاد میں وہ آج دو پہر جو کچھ بھی کر رہے ہوں، پندرہ منٹ کے لیے روک دیں۔ پیر کو ہونے والے بم حملے پندرہ منٹ کے اسی وقفے کےآگے پیچھے ہوئے ہیں۔

گزشتہ برس اس حملے سے فرقہ وارانہ تشدد کی ایک ایسی لہر آگئی تھی جس نے آج بھی ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور جس کے نتیجے میں ہرماہ ہزاروں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔

الشورجہ مارکیٹ بغداد کا ایک بڑا کاروباری علاقہ تھا لیکن مذہبی بنیادوں پر عراق کی پرتشدد تقسیم کے بعد اس علاقے پر اب شیعہ چھاپ ہے اور یہ سنی انتہا پسند گروپوں کا ایک نشانہ ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق دو کاروں میں دھماکہ خیز مواد کو یکے بعد دیگرے اڑا دیا گیا جس سے عمارت منہدم ہوگئی اور دکانوں کو آگ لگ گئی۔

ہیلی کاپٹر’گِرتے ہیلی کاپٹر‘
عراقی فضا بھی امریکیوں کے لیے غیر محفوظ !
دیکھیےبدترین تشدد
عراق میں خودکش بم حملوں کی تصاویر
عبدل ظاہرہ’اللہ کے سپاہی‘
نجف میں ’امام مہدی‘ کے 200 پیروکار ہلاک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد