عراق جانے سے انکار پر کورٹ مارشل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق جانے سے انکار کرنے پر امریکہ میں ایک حاضر فوجی افسر کا کورٹ مارشل کیا جا رہا ہے۔ فرسٹ لیفٹیننٹ ایرہن وٹاڈا کو عراق جانے سے انکار اور غیر مناسب رویے کے دو الزامات پر کورٹ مارشل کا سامنا ہے۔ لیفٹیننٹ وٹاڈا نے واشنگٹن میں ایک فوجی عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ عراق جانے کا حکم غیر قانونی تھا کیونکہ عراق کی جنگ بھی غیر قانونی تھی۔ لیفٹیننٹ وٹاڈا اپنی یونٹ کی جون دو ہزار چھ میں عراق میں تعیناتی کے بعد غیر حاضر رہے جس پر ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی۔ لیفٹیننٹ وٹاڈا جب واشنگٹن میں ایک فوجی کیمپ میں قائم عدالت کے سامنے پیش ہوئے اس وقت ان کے حامی جن میں ایک معروف ادارکار شین پین بھی شامل تھے فوجی اڈے کے باہر عراق جنگ کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ لیفٹیننٹ وٹاڈا کے خلاف عراق جنگ کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی کہنے اور اس پر تنقید کرنے کے الزامات بھی عائد کیئے گئے ہیں۔ لیفٹیننٹ وٹاڈا نے کہا تھا کہ وہ عراق کے بجائے افغانستان جانے پر تیار ہیں۔ فوجی عدالت کے جج لیفٹیننٹ کرنل جان ہیڈ نے حکم دیا ہے کہ لیفٹیننٹ وٹاڈا اپنی صفائی کی بنیاد عراق جنگ کی قانونی حیثیت پر نہیں رکھ سکتے۔ انہوں اپنے حکمنامے میں مزید کہا ہے کہ وٹاڈا کے بیانات امریکہ میں آزادی رائے کے قوانین کے تحت نہیں آتے۔ لیفٹیننٹ وٹاڈا پر الزامات ثابت ہوجانے کی صورت میں چار سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ | اسی بارے میں برطانیہ: ہزار فوجی بھگوڑے ہوگئے28 May, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘30 June, 2006 | آس پاس برطانوی فوجی کا اقرار جرم19 September, 2006 | آس پاس ’عراقی کے سر میں گولیاں ماریں‘07 October, 2006 | آس پاس ریپ کیس: گیارہ امریکیوں پر مقدمہ19 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||