BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 February, 2007, 01:08 GMT 06:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق جانے سے انکار پر کورٹ مارشل
فرسٹ لیفٹینیٹ ایرہن وٹاڈا افغانستان جانے کے لیئے تیار تھے
عراق جانے سے انکار کرنے پر امریکہ میں ایک حاضر فوجی افسر کا کورٹ مارشل کیا جا رہا ہے۔

فرسٹ لیفٹیننٹ ایرہن وٹاڈا کو عراق جانے سے انکار اور غیر مناسب رویے کے دو الزامات پر کورٹ مارشل کا سامنا ہے۔

لیفٹیننٹ وٹاڈا نے واشنگٹن میں ایک فوجی عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ عراق جانے کا حکم غیر قانونی تھا کیونکہ عراق کی جنگ بھی غیر قانونی تھی۔

لیفٹیننٹ وٹاڈا اپنی یونٹ کی جون دو ہزار چھ میں عراق میں تعیناتی کے بعد غیر حاضر رہے جس پر ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی۔

لیفٹیننٹ وٹاڈا جب واشنگٹن میں ایک فوجی کیمپ میں قائم عدالت کے سامنے پیش ہوئے اس وقت ان کے حامی جن میں ایک معروف ادارکار شین پین بھی شامل تھے فوجی اڈے کے باہر عراق جنگ کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

لیفٹیننٹ وٹاڈا کے خلاف عراق جنگ کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی کہنے اور اس پر تنقید کرنے کے الزامات بھی عائد کیئے گئے ہیں۔

لیفٹیننٹ وٹاڈا نے کہا تھا کہ وہ عراق کے بجائے افغانستان جانے پر تیار ہیں۔

فوجی عدالت کے جج لیفٹیننٹ کرنل جان ہیڈ نے حکم دیا ہے کہ لیفٹیننٹ وٹاڈا اپنی صفائی کی بنیاد عراق جنگ کی قانونی حیثیت پر نہیں رکھ سکتے۔

انہوں اپنے حکمنامے میں مزید کہا ہے کہ وٹاڈا کے بیانات امریکہ میں آزادی رائے کے قوانین کے تحت نہیں آتے۔

لیفٹیننٹ وٹاڈا پر الزامات ثابت ہوجانے کی صورت میں چار سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں
برطانوی فوجی کا اقرار جرم
19 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد