برطانیہ: ہزار فوجی بھگوڑے ہوگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کومعلوم ہوا ہے کہ سنہ دو ہزار تین میں عراق جنگ کے آغاز سے اب تک برطانوی فوج کے ایک ہزار سے زائد اہلکار فوج سے بھاگ چکے ہیں۔ یہ بات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پارلیمان میں ایک قانون پر بحث ہو رہی جس کے تحت فوجیوں کو کسی دوسرے ملک پر قبضہ کرنے کے عمل میں تعیناتی سے انکار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صرف گزشتہ ایک سال کے اندر تین سو ستتر افراد فوج سے بھاگ گئے اور ابھی تک ان کا کوئی پتا نہیں چل سکا جبکہ رواں سال میں بھی ایک سو ننانوے افراد بغیر اطلاع کے فوج چھوڑ چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے بعد سے فوج سے بھاگنے والے نو سو اہلکاروں کو فوج نہیں پکڑ سکی ہے۔ برطانیہ کی وزارت دفاع نے ان اہلکاروں کے بگھوڑے ہو جانے کے معاملے کو نہایت خفیہ رکھا ہوا ہے تاہم بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ عراق جنگ کے آغاز سے ایک ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں بغیر چھٹی لیئے فوج سے غائب ہیں۔ ان میں سے کچھ کو تو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً نو سو افراد گرفتاری سے بچنے میں کامیاب رہے ہیں۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ اس بات کا ریکارڈ نہیں رکھتی کہ آیا فوج سے بھاگ جانے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے یا نہیں، لیکن حکمران جماعت کے ایک ممبر پارلیمنٹ نے اس ہفتے پارلیمان کو بتایا ہے کہ گزشتہ تین سال میں فوج سے بھاگ جانے کے واقعات میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ جان میکڈونل نے یہ بات اس مجوزہ قانون پر بحث کے دوران کہی جس کے تحت فوج سے بھاگنے والوں کو عمر قید کی سزا دی جا سکے گی۔
دریں اثناء یہ واضح نہیں ہو رہا کہ بھاگنے والے فوجیوں میں ان افراد کی تعداد کیا ہے جنہوں نے فوج اس وجہ سے چھوڑی کہ وہ عراق نہیں جانا چاہتے تھے اور ایسے فوجی کتنے ہیں جنہوں نے یہ فیصلہ ذاتی یا گھریلو وجوہات کی بنا پر کیا۔ دوسری جانب کورٹ مارشل کے مقدمات میں فوجیوں کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو عراق میں تعیناتی سے بچنے کی غرض سے ان سے قانونی مشورہ کے لیے رابطہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح فوج کے کئی اہلکاروں کے دل اس وجہ سے بھی پھیکے پڑ چکے ہیں کہ ان کی بہترین کوششوں کے باوجود عراق میں انتشار جاری ہے اور وہاں کی صورتحال میں کوئی خاص بہتری نہیں ہو رہی ہے۔ اس سلسے میں ایس اے ایس جیسے یونٹ کے اہلکار بین گرفن کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ بین گرفن نے اس سال کے اوائل میں اپنے کمانڈر سے کہہ دیا تھا کہ وہ دوبارہ عراق جانے کے لیے تیار نہیں۔ اس انکار کی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھا کہ انہوں نے عراق میں امریکی فوج کو ایسی حرکتیں کرنے دیکھا ہے جن کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ انہیں بعد میں فوج چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے بین گرفن نے کہا ’ مجھے امریکی فوجیوں کے عمومی رویے سے تکلیف ہوتی تھی۔ وہ عراقیوں سے ذلت آمیز اور غیر انسانی سلوک کرتے تھے۔ انہیں عراقی لوگوں کی جان اور مال کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ عراق کا معاملہ دوسری فوجی مہمات سے مختلف ہے۔ ’اس قسم کی دوسری مہمات کا مقصد مقامی لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانا ہوتا ہے لیکن میرے خیال میں عراق میں ایسا نہیں ہوا۔ عراق میں مقامی لوگوں کی تذلیل کی گئی ہے۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کتنے عراقیوں کو مارا جا چکا ہے۔‘ اپنے دیگر فوجی ساتھیوں کو مشورہ دیتے ہوئے بین گرفن نے کہا کہ انہیں فوج سے بھاگنا نہیں چاہیے، لیکن اگر وہ شک میں مبتلا ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز سنیں اور اگر انہیں لگتا ہے کہ عراق میں جنگ غلط ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ کُھل کر بات کریں۔‘ | اسی بارے میں نیویارک میں جنگ مخالف ریلی30 April, 2006 | آس پاس عراق میں غلطیاں ہوئیں: رائس31 March, 2006 | آس پاس حملےکوتین سال، احتجاجی ریلیاں18 March, 2006 | پاکستان ’عراق جنگ،فیصلہ خدا نے کرایا‘04 March, 2006 | آس پاس عراقی جنگ ویتنام سے مہنگی 31 August, 2005 | آس پاس عراق جنگ مخالف گیلووے کامیاب06 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||