BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 March, 2006, 15:33 GMT 20:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملےکوتین سال، احتجاجی ریلیاں
احتجاج
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جنگ کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے
عراق جنگ کے مخالفین نے امریکی حملے کے تین برس مکمل ہونے پر دنیا بھر میں مظاہرے کیئے ہیں۔

ہزاروں مظاہرین نے پاکستان، جاپان، جنوبی کوریا اور ملائشیا سمیت متعدد ایشیائی ممالک میں احتجاجی جلوس نکالے ہیں اور عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔


ایشیائی ممالک کے علاوہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بھی امریکہ مخالف ریلی نکالی گئی ہے۔
این اور پیٹر لندن کے مظارے میں شرکت کے لیے برسٹ سے آئے تھے

براعظم یورپ کے مختلف ملکوں میں بھی جنگ مخالف مظاہروں کی اطلاعات ہیں جبکہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پولیس نے ہزاروں افراد کی جانب سے مظاہرے کی وجہ سے شہر کے چند علاقوں میں سڑکیں بند کر دیں۔

برطانیہ میں پولیس نے احتجاج کرنے والوں کی تعداد پندرہ ہزار بتائی جبکہ منتظمین کے مطابق یہ تعداد اسی ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان تھی۔ مظاہرے میں حکمران لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان جیریمی کوربِن اور جان مکڈانلڈ کے علاوہ عراق میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لواحقین کی شرکت بھی متوقع تھی۔

پاکستان کے شہروں کراچی اور ملتان میں بائیں بازو کی جماعتوں نے عراق پر حملے کے تین سال مکمل ہونے پر احتجاجی جلوس نکالے۔

کراچی
کراچی میں سنیچرکی شام کو بائیں بازو کی جماعتوں نے شام کو برنس روڈ پر فریسکو چوک سے پریس کلب تک ریلی نکالی، جس میں بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، ڈاکٹروں اور صحافیوں نے بھی شرکت کی۔

ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے، مارکس اور لینن کی تصاویر کے علاوہ پلے کارڈ تھے جن پر ’امریکہ عراق چھوڑ دو‘ تحریر تھا۔

جنگ کے خلاف اتحاد کی جانب سے نکالی گئی اس ریلی کی سربراہی ایم بی نقوی، پاکستان نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو، معراج محمد خان، اقبال حیدر ،عارف خان اور کینز فاطمہ کر رہے تھے۔

ریلی کے دوران بلند آواز میں فیض احمد کی نظم ’ہم دیکھیں گے۔۔۔۔‘ سمیت دیگر گیت بجائے گئے۔ مظاہرین امریکہ اور جنرل مشرف کے خلاف بھی نعرے لگا رہے تھے۔

جنگ کے خلاف اتحاد کے رہنما ایم بی نقوی نے بی بی سی کو بتایا کہ’ہمارا
احتجاج جنگ، فوج کشی اور سامراج کے خلاف ہے۔ عراق اور افغانستان کے بعد ایران، شام اور کوریا کو سامراج سے خطرہ ہے۔ امریکہ ان ممالک پر کبھی بھی فوج کشی کرسکتا ہے‘۔

ایم بی نقوی کے مطابق امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور دوسرے ممالک کے وسائل کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سامراج برطانوی اور فرانسیسی سامراج سے مختلف ہے۔
یہ زمینوں پر قبضہ نہیں کرتا یہ صرف ان پر ایسی حکومتیں مسلط کرتا ہے۔ جو امریکہ کا کہنا مانے اور ان کو فوائد پہنچائے۔

پاکستان نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ’اگر ملک اس طرح ایک دوسرے پر قبضہ کرنا شروع ہوجائیں تو شاید ہم ایک مرتبہ پھر نئی عالمی جنگ کی طرف چلے جائیں گے‘۔

عراق میں دو ہزار سے زیادہ امریکی ہلاک ہو چکے ہیں

بائیں بازو کی جماعت قومی محاذ آزادی کے سابق رہنما معراج محمد خان کا کہنا تھا کہ امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے، اب اس کی کوشش ہے کہ کسی طرح بھی عراقی عوام کو آپس میں لڑایا جائے جب وہ عراق سے واپس جائے تو وہ ملک کو برباد کرکے یا بانٹ کر جائے۔

معراج محمد خان نے کہا کہ ایران کو اپنے پرامن ایٹمی کام کو آگے بڑھانے کا حق حاصل ہے۔اگر دوسرے ملکوں کو یہ حق حاصل ہے تو پھر انہیں بھی یہ حق حاصل ہے۔

امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور دوسرے ممالک کے وسائل کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے
ایم بی نقوی

ملتان:

ملتان میں بھی غیر سرکاری سماجی تنظیموں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے سنیچر کو ایک مشترکہ احتجاجی مظاہرے کے ذریعے ’عالمی تنازعات‘ کو جنگ کی بجائے مذاکرات کی مدد سے حل کرنے پر زور دیا۔

مظاہرین نے نواں شہر چوک سے ملتان پریس کلب تک پیدل مارچ کیا۔ مظاہرے میں شامل افراد نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج نعرے تھے ’جنگ نہیں امن‘۔ ’بم نہیں تعلیم‘۔ ’تیل کے لیئے خون خرابہ بند کرو‘۔ ’عراق پر امریکی جارحیت نامنظور‘۔

مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ ’امریکی عزائم‘ کی وجہ سے دنیا میں ’گلوبل جنگ‘ کی سی کیفیت طاری ہے اور انسانی ترقی کی بجائے عسکری معاملات پر زیادہ اخراجات کیئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے لیئے جنگ کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اٹھارہ مارچ کا دن اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ’اینٹی وار ڈے‘ کے طور پر منایا جاتا ہے اور المیہ یہ کہ تین برس قبل اسی روز اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت امریکہ نے عراق پر جنگ مسلط کی تھی۔

احتجاجی مظاہرے میں کاریتاس پاکستان، جسٹس اینڈ پیس کمیشن، ترقی پسند آرگنائزیشن، پاکستان ورکرز پارٹی، کیمونسٹ مزدور کسان پارٹی، کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان، پروگریسو یوتھ فرنٹ اور ملتان پیس نیٹ ورک کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد