حملےکوتین سال، احتجاجی ریلیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق جنگ کے مخالفین نے امریکی حملے کے تین برس مکمل ہونے پر دنیا بھر میں مظاہرے کیئے ہیں۔ ہزاروں مظاہرین نے پاکستان، جاپان، جنوبی کوریا اور ملائشیا سمیت متعدد ایشیائی ممالک میں احتجاجی جلوس نکالے ہیں اور عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ ایشیائی ممالک کے علاوہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بھی امریکہ مخالف ریلی نکالی گئی ہے۔
براعظم یورپ کے مختلف ملکوں میں بھی جنگ مخالف مظاہروں کی اطلاعات ہیں جبکہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پولیس نے ہزاروں افراد کی جانب سے مظاہرے کی وجہ سے شہر کے چند علاقوں میں سڑکیں بند کر دیں۔ برطانیہ میں پولیس نے احتجاج کرنے والوں کی تعداد پندرہ ہزار بتائی جبکہ منتظمین کے مطابق یہ تعداد اسی ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان تھی۔ مظاہرے میں حکمران لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان جیریمی کوربِن اور جان مکڈانلڈ کے علاوہ عراق میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لواحقین کی شرکت بھی متوقع تھی۔ پاکستان کے شہروں کراچی اور ملتان میں بائیں بازو کی جماعتوں نے عراق پر حملے کے تین سال مکمل ہونے پر احتجاجی جلوس نکالے۔ کراچی ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے، مارکس اور لینن کی تصاویر کے علاوہ پلے کارڈ تھے جن پر ’امریکہ عراق چھوڑ دو‘ تحریر تھا۔ جنگ کے خلاف اتحاد کی جانب سے نکالی گئی اس ریلی کی سربراہی ایم بی نقوی، پاکستان نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو، معراج محمد خان، اقبال حیدر ،عارف خان اور کینز فاطمہ کر رہے تھے۔ ریلی کے دوران بلند آواز میں فیض احمد کی نظم ’ہم دیکھیں گے۔۔۔۔‘ سمیت دیگر گیت بجائے گئے۔ مظاہرین امریکہ اور جنرل مشرف کے خلاف بھی نعرے لگا رہے تھے۔ جنگ کے خلاف اتحاد کے رہنما ایم بی نقوی نے بی بی سی کو بتایا کہ’ہمارا ایم بی نقوی کے مطابق امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور دوسرے ممالک کے وسائل کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سامراج برطانوی اور فرانسیسی سامراج سے مختلف ہے۔ پاکستان نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ’اگر ملک اس طرح ایک دوسرے پر قبضہ کرنا شروع ہوجائیں تو شاید ہم ایک مرتبہ پھر نئی عالمی جنگ کی طرف چلے جائیں گے‘۔
بائیں بازو کی جماعت قومی محاذ آزادی کے سابق رہنما معراج محمد خان کا کہنا تھا کہ امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے، اب اس کی کوشش ہے کہ کسی طرح بھی عراقی عوام کو آپس میں لڑایا جائے جب وہ عراق سے واپس جائے تو وہ ملک کو برباد کرکے یا بانٹ کر جائے۔ معراج محمد خان نے کہا کہ ایران کو اپنے پرامن ایٹمی کام کو آگے بڑھانے کا حق حاصل ہے۔اگر دوسرے ملکوں کو یہ حق حاصل ہے تو پھر انہیں بھی یہ حق حاصل ہے۔ ملتان: ملتان میں بھی غیر سرکاری سماجی تنظیموں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے سنیچر کو ایک مشترکہ احتجاجی مظاہرے کے ذریعے ’عالمی تنازعات‘ کو جنگ کی بجائے مذاکرات کی مدد سے حل کرنے پر زور دیا۔ مظاہرین نے نواں شہر چوک سے ملتان پریس کلب تک پیدل مارچ کیا۔ مظاہرے میں شامل افراد نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج نعرے تھے ’جنگ نہیں امن‘۔ ’بم نہیں تعلیم‘۔ ’تیل کے لیئے خون خرابہ بند کرو‘۔ ’عراق پر امریکی جارحیت نامنظور‘۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ ’امریکی عزائم‘ کی وجہ سے دنیا میں ’گلوبل جنگ‘ کی سی کیفیت طاری ہے اور انسانی ترقی کی بجائے عسکری معاملات پر زیادہ اخراجات کیئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے لیئے جنگ کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اٹھارہ مارچ کا دن اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ’اینٹی وار ڈے‘ کے طور پر منایا جاتا ہے اور المیہ یہ کہ تین برس قبل اسی روز اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت امریکہ نے عراق پر جنگ مسلط کی تھی۔ احتجاجی مظاہرے میں کاریتاس پاکستان، جسٹس اینڈ پیس کمیشن، ترقی پسند آرگنائزیشن، پاکستان ورکرز پارٹی، کیمونسٹ مزدور کسان پارٹی، کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان، پروگریسو یوتھ فرنٹ اور ملتان پیس نیٹ ورک کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ | اسی بارے میں عراق، 15 اور لاشیں مل گئیں14 March, 2006 | آس پاس عراقی بحران اور پارلیمان کا اجلاس 16 March, 2006 | آس پاس امریکی عوام صبر سے کام لیں: بش18 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||