’عراقی کے سر میں گولیاں ماریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی بحریہ کے ایک رکن نے کیلیفورنیا میں ایک فوجی عدالت میں دو ہم وطن فوجیوں کو ایک عراقی شہری کے سر میں گولی مارتے ہوئے دیکھنے کی شہادت دی ہے۔ بحریہ کے اہلکار میلسن باکوس نے کہا عراقی شہری ہاشم ابراہیم اود کو، جنہیں مغربی عراق میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا، امریکی میرین نے سر میں کم از کم دس گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔ میلسن باکوس کے علاوہ سات امریکی میرین فوجیوں پر عراقی شہر حامدیہ میں عراقی شہریوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں کورٹ مارشل کیا جا رہا ہے۔ باکوس اپنے ساتھی فوجیوں کے خلاف گواہی دینے پر اس شرط پر رضامند ہو گئے تھے کہ خود ان کو الزامات سے بری کر دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں عراق جانےسےانکار پر کورٹ مارشل11 April, 2006 | آس پاس عراق:’ پانچ امریکی فوجی ہلاک‘10 June, 2005 | آس پاس ’گوانتانامو ناانصافی کی مثال بن گیا ہے‘11 May, 2006 | آس پاس عراقی قیدی: پہلا کورٹ مارشل09 May, 2004 | آس پاس صدام مقدمہ: ’23 مقتول زندہ ہیں‘ 31 May, 2006 | آس پاس افغان ہلاکت، امریکی پر مقدمہ08 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||