عراق جانےسےانکار پر کورٹ مارشل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی رائل ایئرفورس کے ایک ڈاکٹر کے عراق جانے سےانکار پر ان کا کورٹ مارشل منگل کو برطانیہ میں شروع ہو گیا ہے۔ فلائٹ لیفٹیننٹ ڈاکٹر میلکم کینڈل سمتھ نے عراق جانے سے انکار یہ کہہ کر کیا تھا کہ وہاں اتحادی فوجوں کی موجودگی غیرقانونی ہے۔ میلکم کینڈل سمتھ کو کورٹ مارشل میں پانچ الزامات کا سامنا ہے جن میں عراق جانے کے لیے ضروری ٹریننگ لینے سے انکار اور بصرہ میں تعنیاتی کے احکامات سے حکم عدولی شامل ہیں۔ کورٹ مارشل کی باقاعدہ کاروائی سے قبل گزشتہ ماہ جب کینڈل سمتھ کا مقدمہ ایک خصوصی عدالت میں پیش ہوا تو متعلقہ جج نے اپنے فیصلے میں انہیں احکامات سے انکار کا مرتکب پایا تھا۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جب سن دو ہزار پانچ میں میلکم کینڈل سمتھ کواحکامات دیے گئے تھے تو وہ قانونی تھے کیونکہ اس وقت تک اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور عراق کی حکومت نے غیر ملکی افواج کو عراق آنے کی اجازت دے دی تھی۔ | اسی بارے میں امریکی فوجی کا کورٹ مارشل12 January, 2005 | آس پاس بھارتی میجر کا کورٹ مارشل شروع20 December, 2004 | انڈیا دو مزید امریکیوں کا کورٹ مارشل12 May, 2004 | آس پاس عراقی قیدی: پہلا کورٹ مارشل09 May, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||