دو مزید امریکیوں کا کورٹ مارشل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں قیدیوں سے بدسلوکی کے مرتکب دو اور امریکوں فوجیوں کا کورٹ مارشل کیا جا رہا ہے۔ دو اور امریکیوں فوجیوں کے کورٹ مارشل کا اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکہ کے منتخب نمائندوں کو قیدیوں سے بدسلوکی کی وہ تصاویر دکھائی جو ابھی منظر عام پر نہیں آئیں۔ اتحادی فوج کے اہلکار نے کہا ہے کہ وہ ان دعووں کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مبینہ القاعدہ کے شدت پسندوں کے ہاتھوں ذبح ہونے والے امریکی یرغمالی کبھی امریکی تحویل میں تھے ہی نہیں۔ نک برگز کے قاتلوں نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے عراق قیدیوں پر امریکی فوجیوں کے تشدد کا بدلہ لینے کے لیے نک برگز کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔ امریکہ اور دنیا بھر میں اس قتل پر غم اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سی آئی اے نے کہا ہے کہ وہ ان دعووں کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نک برگز کے قاتلوں میں القاعدہ کے رہنما ابو مصاب الزرقوی بھی شامل تھے۔ نک برگز کے قتل کے مناظر سے پہلے ویڈیو ٹیپ پر یہ لکھا ہو آیا کہ الزرقوی امریکی کا سر قلم کریں گے۔ برگز کے خاندان نے کہا ہے کہ اگر وہ امریکیوں کی حراست میں نہیں تھے شاید ابھی تک زندہ ہوں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائند ے کا کہنا ہے کہ عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کے بعد امریکی میں سیاسی طور پر جو اختلاف رائے پایا جا رہا تھا اس ویڈیو فلم کے منظر عام پر آنے سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ابھی تک قیدیوں سے بدسلوکی کے الزام میں نو امریکی فوجیوں کا کورٹ مارشل کا سامنا کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||