برطانوی فوج کے مظالم: ایمنسٹی رپورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی فوجیوں نے ایک آٹھ سالہ لڑکی سمیت عراقی عام شہریوں کو بغیر کسی ظاہری وجہ ہلاک کیا۔ ایک رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ برطانوی فوج کے ہاتھوں کئی عراقی شہریوں کی ہلاکت کے معاملات کی تحقیق نہیں کی گئی۔ ’جو تحقیقات ہوئیں وہ بھی رائل ملٹری پولیس کے ہاتھوں خفیہ طریقے سے انجام پائیں۔‘ انسانی حقوق کی نتظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات سویلین اداروں کی مدد سے انجام دی جانی چاہئیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ رپورٹ فروری اور مارچ میں برطانوی فوج کے زیر انتظام جنوبی عراق کے دورے کے بعد مرتب کی ہے۔ رپورٹ میں مسلح نگران دستوں کے ہاتھوں صدام حسین کے حامیوں کے ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ میں عراق کی عیسائی اقلیت سے ہونے والی زیادتیوں کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔ برطانیہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سربراہ کیٹ ایلن کا کہنا ہے کہ یہاں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ عراق کا جنوبی حصہ مقابلتاً زیادہ محفوظ ہے۔ ’لیکن وہاں پہنچ کر ہمیں ایک مختلف تصویر نظر آتی ہے۔‘ رپورٹ میں آٹھ سالہ عراقی لڑکی حنان صالح مترود کا ذکر ملتا ہے جوبظاہر کنگز رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے سپاہیوں کی گولیوں کا نشانہ بنی۔ ایک عینی شاہد نے ایمنسٹی کو بتایا کہ لڑکی کو ساٹھ میٹر کی دوری سے نشانہ باندھ کر مارا گیا۔ اس بیان سے فوج کے اس موقف کی تردید ہوتی ہے کہ وہ حادثاتی طور پر ہلاک ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||