عراقی قیدی: پہلا کورٹ مارشل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے نتیجے میں امریکی فوج کی جانب سے ایک فوجی اہلکار کے کورٹ مارشل کا اعلان ہوا ہے۔ چوبیس سالہ اسپیشلٹ جیریمی سیویٹ سے انسیس مئی کو عراق میں پوچھ گچھ ہوگی۔ برگیڈئیر مارک کیمیٹ کا کہنا ہے کہ اس فوجی اہلکار پر عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے حوالے سے تین الزام عائد ہوئے ہیں۔ تاہم تفتیش کا مرحلہ بلکل شفاف ہوگا۔ اس کے علاوہ چھ دوسرے فوجی اہلکاروں کو بھی اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا ہے۔ جبکہ جین کیمیٹ کا کہنا ہے کہ مزید لوگوں کے خلاف کاروائی کا امکان ہے۔ پنسلوینیا سے تعلق رکھنے والے سیویٹ پہلے شخص ہیں جن کےخلاف مقدمے کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ جیریمی سیویٹ کو مندرجہ ذیل الزامات کا سامنا ہے: بدسلوکی کی سازش کرنا جین کیمیٹ نے کہا کہ جب تک سیویٹ مجرم ثابت نہیں ہو جاتے وہ بے قصور ہی تصور کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعہ کے بارے میں لاپروائی سے عراق میں ان تمام فوجی اہلکاروں پر حرف آئے گا جو اپنا کام ایمانداری سے سر انجام دے رہے ہیں۔ سیویٹ کے والد ڈینیل سیویٹ نے خبر رساں اے پی ایجنسی کو بتایا کہ ان کے بیٹے نے وہی کیا جو اس کو کہا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو قیدیوں کی نگرانی کی تربیت نہیں دی گئی بلکہ وہ تو ٹرک مکینک ہے۔ سنیچر کے روز امریکی صدر بش نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ وہ اس افسوس ناک واقعہ کے بارے میں مزید شواہد اکھٹے کریں گے اور واقعہ کی تہہ میں جانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ملوث پائے جائیں گے وہ ان کے جوابدہ ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||