بھارتی میجر کا کورٹ مارشل شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ایک فوجی افسر کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔اس افسر پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ مہینے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی قصبے ہندواڑہ میں تین خواتین کی بے حرمتی کی تھی۔ زیادتی کے ان واقعات سے کشمیر کی وادی میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور پوری وادی میں احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ میجر رحمان حسین نامی اس افسر پر پانچ الزامات لگائے گئے ہیں جن میں ایک خاتون سے زیادتی اور اس کی دس سالہ بیٹی کی بے حرمتی کا الزام بھی شامل ہیں۔ ملزم نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ ملزم کی درخواست پر عدالت نے اسے چھبیس دسمبر تک اپنے دفاع کی تیاری کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ بھارتی فوج نے پہلے پہل تو میجر رحمان پر الزامات کی تردید کی تھی البتہ بعد میں تحقیقات کا حکم دے دیا گیا تھا۔ یہ پندرہ برس کے دوران پہلا موقع ہے کہ فوج کے کسی کورٹ مارشل کی اتنی تشہیر کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر دس دسمبر کو پانچ سو سے زیادہ افراد نے زیادتی کا شکار ہونے والی دس سالہ بچی کی تصاویر اٹھا کر سری نگر کی جانب مارچ کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||