کشمیر دھماکے میں تین افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک انتخابی جلسے پر کیے جانے والے دستی بم کے حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 59 زخمی ہوئے ہیں۔ دستی بم سے یہ حملہ جموں کے شمال مشرق میں ایک سو ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ڈوڈا ضلع ہونے والے ایک جسلے پر کیا گیا۔ یہ جلسے نیشنل کانفرنس کے رہنما خالد نجیب سہروردی کے حامیوں نے منعقد کیاتھا۔ واضح رہے کہ خالد نجیب بھارت کے ان عام انتخابات میں امیدوار ہیں جو دس مئی کو ختم ہو رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ بدھ کو انتخابات کے حوالے سے ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں چھبیس افراد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں نجیب سہروردی کو کوئی گزند نہیں پہنچی تاہم پولیس نے دیہہ بھاگوا کو محاصرے میں لے لیا ہے۔ نجیب سہروردی ادھم پور کے حلقے سے امیدوار ہیں اور کہا جاتا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب وہ بھاگوا میں چار سو کے لگ بھگ لوگوں کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ بھارت میں انتخابی عمل تین ہفتے پر مشتمل ہے اور اس کے نتائج تیرہ مئی کو سامنے آئیں گے۔ اس کے علاوہ گرمائی دارالحکومت سری نگر کے شمال میں نوے کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہندواڑہ کے علاقے میں سترہ افراد اس وقت زخمی ہوگئے جب مشتبہ علیحدگی پسندوں نے ایک تھانے پر حملہ کیا۔ مزید نو افراد سری نگر کے جنوب میں بوناگام کے علاقے میں اس وقت زخمی ہوئے جب ایک مارکی رہنما خلیل نائک کی گاڑی پر دستی بم پھینکا گیا۔ خلیل نائک اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||