ایران کو کونڈولیزا رائس کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی صدر احمدی نژاد نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے گا۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سرکردہ ممالک پیر کو لندن میں ہونے والے ایک اجلاس میں ایران پر مزید پابندیاں لگانے پر غور کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کرتا تو اس کی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی ادارے پہلے ہی ایران سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں، جبکہ تیل اور گیس کے شعبے بھی جلد اس رحجان کا شکار ہو جائیں گے۔ کونڈولیزا رائس نے اپنے بیان کے ذریعے ایران کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ اپنے جوہری عزائم ترک کرتا ہے تو وہ خود ذاتی طور پر ایران اور امریکہ کے تعلقات کو دوبارہ اعلیٰ پیمانے پر استوار کرنے میں کردار ادا کریں گی۔ لیکن صدر نژاد نے اپنے ملک کے جوہری پروگرام کو ایک ایسی ٹرین سے تشبیہ دی ہے جس کی نہ بریک ہے اور نہ ہی ریورس گیئر۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اپنے علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ ایران ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کو تیار ہے۔ | اسی بارے میں ایران کونتائج بھگتنے ہوں گے:امریکہ13 April, 2006 | آس پاس ایران کے لیے نیا مسودۂ قرارداد تیار09 December, 2006 | آس پاس احمدی نژاد: قرارداد کاغذ کا پرزہ ہے24 December, 2006 | آس پاس ایٹمی صلاحیت جلد از جلد: ایران21 February, 2007 | آس پاس ایران پر امریکی صدر کا دباؤ14 February, 2007 | آس پاس ’ایران نے ڈیڈلائن پر عمل نہیں کیا‘22 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||