ایٹمی صلاحیت جلد از جلد: ایران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کو یورینیم کی افزودگی بند کرنے کے لیے ساٹھ دن کی جو مہلت دی تھی وہ آج (بدھ) کو ختم ہو رہی ہے اور ایٹمی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرداعی سلامتی کونسل میں یہ رپورٹ پیش کرنے والے ہیں کہ تہران نے یورینیم کی افزودگی بند نہیں کی۔ محمد البرداعی کی جانب سے سلامتی کونسل میں یہ رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد ایران پر زیادہ سخت بین الاقوامی پابندیوں کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ لیکن اس مرحلے پر ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ نیوکلئر ٹیکنالوجی کا حصول ان کے ملک کے لیے اتنا اہم کہ اگر اسے دوسری تمام سرگرمیاں بند کرنے پر مجبور بھی کر دیا جائے تو بھی اسے ترجیح دی جا سکتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک جلد از جلد ایٹمی صلاحیت حاصل کر لے۔ جوہری مذاکرات پر ایرانی ٹیم کے سربراہ علی لاریجانی نے اپنے ملک کے خلاف طاقت کے ممکنہ استعمال کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ صرف مذاکرات کے ذریعہ طے ہو سکے گا۔ ویانا میں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے سربراہ سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ ایران یہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی جانب رخ نہیں کرے گا۔ علی لاریجانی نے ایران کے خلاف جاری ’غیر دانشمندانہ باتوں‘ سے خبرادار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ اس سے قبل ایرانی صدر نے کہا تھا کہ جو ممالک ایران سے جوہری پروگرام بند کرنے کا کہہ رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ خود بھی جوہری ایندھن بنانے کی سہولتیں ختم کردیں۔ گزشتہ برس ایران نے یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دی تھی۔ اس عمل سے بجلی گھروں کے لیے ایندھن بھی بن سکتا ہے اور اگر یورینیئم کو نہایت نفاست کے ساتھ افزودہ کیا جائے تو جوہری بم بنایا جا سکتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے جاری رکھنا چاہتا ہے لیکن مغربی ممالک کو شبہہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی توانائی کے ادارے کے ساتھ ویانا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد علی لاریجانی نے کہا کہ جو کوئی بھی غیر دانشمندانہ یا غیر منطقی حرکت کرے گا ایران اسے مناسب جواب دے گا۔ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ اگر سفارتی ذرائع سے حل نہ ہوا تو امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے کا جو منصوبہ بنایا ہے اس پر عمل درآمد کی کچھ تفصیلات گزشتہ روز سامنے آئی تھیں۔ بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ کا ممکنہ حملے کا منصوبہ صرف جوہری ٹھکانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ایران کے ہوائی اور بحری اڈوں، ہوائی حملوں سے بچاؤ کے انتظامات، میزائل بنانے والے اڈوں اور کمان اور کنٹرول کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ |
اسی بارے میں ایران: امریکی حملے کی ’تفصیلات‘20 February, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||