 | | | امریکہ کا ممکنہ حملے کا منصوبہ صرف جوہری ٹھکانوں تک محدود نہیں ہے |
ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ اگر سفارتی ذرائع سے حل نہ ہوا تو امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے کا جو منصوبہ بنایا ہے اس پر عمل درآمد کی کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ کا ممکنہ حملے کا منصوبہ صرف جوہری ٹھکانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ایران کے ہوائی اور بحری اڈوں، ہوائی حملوں سے بچاؤ کے انتظامات، میزائل بنانے والے اڈوں اور کمان اور کنٹرول کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ اس کا ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اب بھی سفارتی ذرائع سے کام لے کر ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔  | | | امریکہ کا اصرار ہے کہ ابھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے |
امریکی حکام اصرار کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ ایران پر حملے کی کوئی نیت نہیں ہے اور واشنگٹن اب بھی یہی کوشش کررہا ہے کہ سفارت کاری کے ذریع ایران کو اس بات پر تیار کرے کہ وہ جوہری افزودگی کا پروگرام روک دے۔لیکن سفارتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کوششوں کی ناکامی کی صورت میں فلوریڈا کی مرکزی کمان میں فوجی منصوبہ بندی کرنے والوں نے اُن مقامات کو چن لیا ہے جن پر ہوائی حملے کۓ جائیں گے۔ حملے کا حکم ایک تو اس بات کی اطلاع کی تصدیق ہوتے ہی دے دیا جائےگا کہ ایران نے جوہری بم بنا لیا ہے۔ دوسرے اگر عراق میں امریکی فوجوں پر کوئی ایسا بڑا حملہ کیا جائے جس کا تعلق براہ راست ایران سے ثابت ہوتا ہو تو حملہ کیا جا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے مبصروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے حملے کے بہت ہی تباہ کن نتائج نکلیں گے۔ تہران میں برطانیہ کے سابق سفیر سر رچرڈ ڈالٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کا الٹا اثر یہ ہوگا کہ ایران آگے چل کر جوہری بم بنانے کی پوری کوشش کرے گا۔ |