ایران پر پابندیاں، اہم پیش رفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے ایران کے خلاف سخت پابندیوں عائد کرنے کےمعاملے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی وزات خارجہ کے اعلی افسر نے کہا ہے کہ ایران پر پابندیاں لگانے کے معاملے میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس کے مابین ہونے والی بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ نے دسمبر 2006 میں ایران کو مہلت دی تھی کہ وہ ساٹھ روز کے اندر جوہری پروگرام کو روک دے وگرنہ اس کو پابندیوں کا سامنا کر پڑ سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز ہونے والی ٹیلی فونک کانفرنس کے بعد سفارت کار ایران پر نئی پابندیوں سے متعلق نئی قرارداد کی تیاری شروع کر دیں گے۔ نئی تجاویز کے تحت ایران کے اعلی حکام کے سفر پر قدغن سمیت کئی اور پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔ ادھر ایران اپنے موقف پر قائم ہے کہ وہ جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے یا اس کو ریوریس کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے اور اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ | اسی بارے میں ایران کونتائج بھگتنے ہوں گے:امریکہ13 April, 2006 | آس پاس ایران کے لیے نیا مسودۂ قرارداد تیار09 December, 2006 | آس پاس احمدی نژاد: قرارداد کاغذ کا پرزہ ہے24 December, 2006 | آس پاس ایٹمی صلاحیت جلد از جلد: ایران21 February, 2007 | آس پاس ایران پر امریکی صدر کا دباؤ14 February, 2007 | آس پاس ’ایران نے ڈیڈلائن پر عمل نہیں کیا‘22 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||