BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 February, 2007, 21:33 GMT 02:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ، ایران اور شام سے بات پر تیار

عراق میں امریکی فوجی
امریکہ چاہتا ہے کہ علاقائی طاقتیں عراق میں استحکام لانے میں مدد دیں
وزیرِ خارجہ کونڈو لیزا رائس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ عراق پر بلائی جانے والی عالمی کانفرنس میں ایران اور شام کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔

کونڈو لیزارائس کے بیان میں کہا کہ گیا کہ انہیں امید ہے کہ عراق کے ہمسایہ ممالک ایران اور شام اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

سینیٹ کے سامنے دیئے جانے والے اس بیان کے کچھ حصے قبل از وقت ہی ذرائع ابلاغ کو جاری کر دیئے گئے ہیں۔

اس اعلان کو واشنگٹن میں عراق پر بش انتظامیہ کی نئی عالمی سفارتی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مجوزہ عالمی کانفرنس میں عراق کے ہمسایہ ملکوں اور سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے علاوہ بین الاقوامی اداروں کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے۔ پہلی کانفرنس جو کہ نائب وزارتی سطح پر ہوگی، مارچ کے پہلے دو ہفتوں کے دوران بلائی جا رہی ہے۔ جبکہ دوسری کانفرنس جو کہ وزارتی سطح پرہوگی ایک مہینے کے اندر اپریل میں بلائی جائے گی۔ اس کانفرنس میں آٹھ امیر ملکوں کے گروپ جی ایٹ کو بھی شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔

کونڈولیزا رائس
کیا کونڈولیزا رائس کا یہ بیان بدلتی ہوئی امریکی پالیسی کا غماز ہے؟

امریکی حکام ماضی میں وقتًا فوقتًا بِلاواسطہ طور پر عراق کے حالات پر ایران اور شام کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔ لیکن یہ کافی عرصے بعد ہوگا کہ امریکہ، ایران اور شام کے ساتھ ایک بڑی عالمی کانفرنس میں بیٹھنے پر آمادہ ہوا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کےمطابق کانفرنس بلانے کی تجویز عراقی قیادت کی طرف سے سامنے آئی اور عراقی حکومت ہی اس کی میزبانی کر رہی ہے۔ جبکہ امریکہ اس سفارتی کوشش کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔

امریکی حکومت کا اصرار ہے کہ کانفرنس کا محور عراقی سکیورٹی ہے اور بات چیت صرف اسی تناظر میں کی جائے گی۔

امریکہ میں دو ماہ پہلے عراق پر ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس کے مشترکہ پینل عراق سٹڈی گروپ نے اپنی سفارشات میں بش حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ عراق میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے خطے میں ایران اور شام جیسے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بات چیت کرے۔

لیکن بش حکومت نے یہ کہہ کر اس تجویز کو زیادہ اہمیت نہیں دی کہ ایران اور شام دونوں جانتے ہیں کہ امریکہ ان سے عراق میں کیا چاہتا ہے۔ بش انتظامیہ نے حال ہی میں الزام لگایا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے والے مہلک ہتھیار ایران سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اپنی تقاریر میں صدر بش بارہا شام اور ایران کومتنبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ عراق میں گڑ بڑ سے باز رہیں۔

اسی بارے میں
امریکہ کی جیت یا تنہائی ؟
22 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد