عراق میں فوج کم کریں گے: بلیئر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے بدھ کو عراق کے جنوبی شہر بصرہ سے برطانوی فوج کے کچھ حصے کی واپسی اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے کہاہے کہ عراق میں برطانوی فوجوں کی تعداد سات ہزار ایک سو سے گھٹا کر پانچ یا ساڑھے پانچ ہزار کر دی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں ضرورت کی مناسبت سے آئندہ برس بھی برطانوی فوج رہےگی۔ ٹونی بلیئر نے یہ اعلان برطانوی پارلیمنٹ سے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کیا ہے۔ دریں اثنا ڈنمارک نے بھی آئندہ اگست میں عراق سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈرز فاگ رموسین نے کہا ہے کہ تمام بری فوج کو واپس بلالیا جائےگا اور اس کی جگہ ہیلی کاپٹر پر مشتمل ایک چھوٹا عملہ لے لیگا۔ عراق میں ڈنمارک کے کل چار سو ستّر فوجی ہیں جو برطانوی فوج کے ماتحت کام کرتے رہے ہیں۔ تازہ فیصلے کے تحت اب ڈنمارک کے صرف نو فوجی ایک ہیلی کاپٹر کے ساتھ وہاں رکیں گے۔ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ بصرہ میں حالات اب بھی خراب ہیں لیکن پہلے سے کافی بہتر ہوئے ہیں اور اب عراقی خود اس کا نظم و نسق سنبھال کر نئی تاریخ لکھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے شام عراق کے حالات بہتر کرنے میں ان کی مدد کرےگا۔ بی بی سی کے نامہ نگار جیمز لینڈیل کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ لگ بھگ پندرہ سو کے قریب برطانوی فوجی اگلے چند ماہ میں وطن لوٹ آئیں گےاور اس سال کرسمس تک یہ تعداد تین ہزار تک پہنچ جائے گی۔ وائٹ ہال میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر عراق میں صورتِ حال مزید خراب ہوئی تو برطانوی فوج کی واپسی کا عمل سست ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے بتایا تھا ’درست یہی ہے کہ پہلے وزیرِ اعظم صاحب پارلیمان کو مطلع کریں۔‘ اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ صدر جارج بش نے ٹیلی فون پر وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر سے بات کی ہے۔ حال ہی میں صدر بش نے عراق میں 21500 مزید امریکی فوجی بھیجنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا گو برطانیہ کی فوج جنوبی عراق میں ہے، ہمیں خوشی ہے کہ بصرہ میں حالات بہتر ہو گئے ہیں اور وہاں کا انتظام عراقیوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ خیال کرنا کہ اگلے برس کے آخر تک تمام برطانوی فوجی وطن لوٹ چکے ہوں گے حقائق کی صحیح نمائندگی نہیں کرتا۔ گزشتہ برس نومبر میں وزیرِ دفاع ڈیس براؤن نے کہا تھا کہ دو ہزار سات کے آخر تک عراق میں برطانوی فوج کی موجودگی میں کافی حد تک کمی آ جائے گی۔ گزشتہ ماہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ اس سال اکتوبر تک تمام برطانوی فوج واپس بلائے جائیں۔ تاہم وزیرِ اعظم بلیئر نے کہا تھا کہ ایک من مانا نظام الاوقات طے کرنے سے عراق میں لوگوں کو بہت تباہ کن اشارہ دینے کے مترادف ہوگا۔ |
اسی بارے میں عراق میں مزید فوج بھیجنے کی مخالفت06 January, 2007 | آس پاس بش کو نینسی پلوسی کی وارننگ07 January, 2007 | آس پاس بُش پیچھےنہیں ہٹیں گے08 January, 2007 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||