عراقی نائب صدر حملے میں زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ایک وزارت کی عمارت میں ایک تقریب میں جس میں نائب صدر عادل عبدالمہدی بھی شریک تھے، دھماکے سے چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم نائب صدر کو ہلکے زخم آئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں جو وسطی بغداد میں امورِ عامہ کی وزارت میں ہوا، پچیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کیا یہ بم دھماکہ نائب صدر پر قاتلانہ حملے کے لیے کیا گیا تھا۔عراق کے رہنما اکثر شدت پسندوں کا نشانہ رہتے ہیں۔ وزیر کے ایک قریبی ساتھی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’ہم نے دھماکے کی آواز سنی اور دھواں دیکھا۔ ہم وہاں سے پلٹے اور عمارت سے نکل گئے۔ نائب صدر اس وقت گھر پر ہیں اور خیریت سے ہیں۔‘ تاہم واقعہ کےبعد میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق عادل عبدالمہدی کو مرہم پٹی کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔ جس وزارت میں یہ دھماکہ ہوا وہ اس چار دیواری کے باہر ہے جسے گرین زون کہتے ہیں اور جہاں سکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت ہیں۔ عراق کے صدر جلال طالبانی اس وقت اردن کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ وہ اتوار کو بیمار ہوگئے تھے۔ امریکی اور عراقی فوج فرقہ وارانہ تشدد سے نمٹنے کے لیے دارالحکومت بغداد میں تعینات ہے اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سلسے میں تازہ حکمتِ عملی عراق کو خانہ جنگی سے نکالنے کی آخری کوشش ہے۔ اتوار کو ایک خاتون نے بغداد کالج میں خود کش حملہ کر کے بیالیس افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں بغداد: خود کش حملہ، 40 ہلاک25 February, 2007 | آس پاس خود کش حملہ آور خاتون: حکام26 February, 2007 | آس پاس عراق: بم دھماکے میں 42 ہلاک24 February, 2007 | آس پاس عراق: ’خون خرابے کےذمہ دارنہیں‘22 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||