BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 February, 2007, 10:27 GMT 15:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: ’خون خرابے کےذمہ دارنہیں‘
برطانوی فوجی
عراق میں سات ہزار برطانوی فوجی تعینات ہیں
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نےعراق میں سکیورٹی کی خراب صورتحال پر یہ کہہ کر معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ وہاں ہونے والے خون خرابے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

بلئیر نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ عراق میں اور خاص طور پر بغداد کے گرد صورتحال انتہائی خراب ہے لیکن یہ تشدد مزاحمت کاروں اور ملیشیا گروپ کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا کہ عراق کی موجودہ صورتحال سن دو ہزار تین میں ہونے والے امریکی حملے کا براہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عراق میں مستحکم جمہوریت کے قیام تک عراقی عوام کا ساتھ دیں۔

دریں اثناء عراق کے صدر جلال طالبانی نے برطانوی وزیر اعظم کے عراق میں برطانوی فوج میں کمی کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے عراق فوج کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع ملے گا۔

ٹونی بلیئر نے برطانوی فوجیوں کی تعداد سات ہزار ایک سو سے کم کر کے پانچ ہزار پانچ سو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
امریکہ کی جیت یا تنہائی ؟
22 February, 2007 | آس پاس
گیس حملوں پر امریکی تشویش
22 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد