عراق: ’خون خرابے کےذمہ دارنہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نےعراق میں سکیورٹی کی خراب صورتحال پر یہ کہہ کر معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ وہاں ہونے والے خون خرابے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ بلئیر نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ عراق میں اور خاص طور پر بغداد کے گرد صورتحال انتہائی خراب ہے لیکن یہ تشدد مزاحمت کاروں اور ملیشیا گروپ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا کہ عراق کی موجودہ صورتحال سن دو ہزار تین میں ہونے والے امریکی حملے کا براہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عراق میں مستحکم جمہوریت کے قیام تک عراقی عوام کا ساتھ دیں۔ دریں اثناء عراق کے صدر جلال طالبانی نے برطانوی وزیر اعظم کے عراق میں برطانوی فوج میں کمی کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے عراق فوج کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع ملے گا۔ ٹونی بلیئر نے برطانوی فوجیوں کی تعداد سات ہزار ایک سو سے کم کر کے پانچ ہزار پانچ سو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ کی جیت یا تنہائی ؟22 February, 2007 | آس پاس بغداد: کار بم دھماکے، 60 ہلاک18 February, 2007 | آس پاس عراق میں فوج کم کریں گے: بلیئر21 February, 2007 | آس پاس ’بش نے بلیئر کا ذہن خراب کیا‘20 December, 2006 | آس پاس گیس حملوں پر امریکی تشویش22 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||