بغداد: کار بم دھماکے، 60 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں شیعہ اکثریتی علاقے میں تین کار بم دھماکوں میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک اورایک سو تیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ دو دھماکے نیو بغداد کے علاقے میں ہوئے جن میں کم از کم سّتاون افراد مارے گئے جبکہ صدر سٹی میں ہونے والے دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ یہ دھماکے بغداد میں عراقی اور امریکی افواج کی جانب سے نئے سکیورٹی منصوبے پر عملدرآمد کے آغاز کے بعد تشدد کی سب سے بڑی کارروائی ہیں۔ سرحدیں کھولنے کا فیصلہ ادھر عراقی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد ایران اور شام سے ملحقہ سرحدیں کھولی جا رہی ہیں۔ عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے سرحدی کھولنے کا حکم اتوار کی صبح دیا۔
عراقی فوج کے جنرل راہدی محاسن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ہمیں آج عراقی وزیراعظم کی جانب سے حکم ملا کہ سرحدی چوکیاں صبح چھ بجے کھول دی جائیں‘۔ حکام کے مطابق بصرہ کے مشرق میں شالامچہ کراسنگ کے علاوہ ایرانی سرحد پر موجود رکاوٹیں ہٹالی گئی ہیں اور شام میں داخلے کے دو جبکہ ایران جانے کے چار راستے کھول دیے گئے ہیں۔ یہ سرحدیں فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن کے سلسلے میں تین دن کے لیے بند کی گئی تھیں۔ | اسی بارے میں بغداد: نئے سکیورٹی منصوبے کا اعلان13 February, 2007 | آس پاس بغداد میں دھماکے، 70 ہلاک12 February, 2007 | آس پاس عراق کے نائب وزیرِ صحت گرفتار08 February, 2007 | آس پاس بغداد میں فوجی آپریشن اور دھماکے05 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||