امریکہ کی جیت یا تنہائی ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق سے جزوی طور پر برطانوی فوج واپس بلانے کے اعلان نے امریکہ کے سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ عراقی صدر جلال طالبان نے برطانوی اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ جبکہ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ اب صدر بش پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے کہ وہ بھی امریکی فوج کو عراق سے واپس بلائیں۔ وائٹ ہاؤس جو پہلے ہی سے برطانیہ کے بصرہ سے فوج میں تخفیف کےفیصلے سے باخبر تھا، یہ عندیہ دینے کی کوشش کررہا ہے کہ برطانوی فوج کا انخلاء دراصل عراق میں اتحادی افواج اور سکیورٹی پالیسی کی کامیابی کی دلیل ہے۔ امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی نے جو جاپان کے دورے پر ہیں اس تناظر میں کہا ہے کہ برطانوی فوج کی واپسی دراصل اس بات کی عکاس ہے کہ عراق کے جنوب میں سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہوگئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال کا موازنہ اگر ایک برس قبل کے حالات سے کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ اب عراقی سکیورٹی افواج صورتِ حال پر کنٹرول کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے اس اقدام سے تصدیق ہوتی ہے کہ عراق میں حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ تاہم امریکہ میں حکومت کے مخا لفین کہتے ہیں کہ اگر صورتحال اتنی ہی اطمنان بخش ہے تو امریکہ کو عراق میں مزیداکیس ہزار پانچ سو فوجی بھیجنے کی کیا ضروت آن پڑی۔
ایک امریکی خاتوں وکی سٹیورڈ نے برطانیہ کے فوج واپس بلانے کے اعلان کو ایک اچھا آغاز قرار دیا اور کہا کہ امریکی فوج واپس بلانے کی بجائے صدر بش کی جانب سے اضافی فوج عراق بھیجنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ ’میں اب یہ امید کرتی ہوں کہ برطانوی اقدام صدر بش کے لیے ایک اشارہ ہے کہ انہیں بھی عراق سے فوج واپس بلانی شروع کر دینی چاییے۔‘ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی کہتے ہیں کہ برطانیہ کے عراق کے جنوب سے فوج کے ایک حصے کو واپس بلانے کے اعلان کے بعد امریکہ میں عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ فیصلہ امریکی حکومت کے لیے ایک دھچکا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ برطانوی اعلان سے صدر بش تنہا ہو گئے ہیں اور ان پر مزید دباؤ ہوگا کہ وہ امریکی فوج کو بھی عراق سے باہر نکالیں۔ ادھرعراق کے صدر جلال طالبانی نے برطانوی فوج میں تخفیف کے فیصلے کو سرا تے ہوئے کہا ہے کہ کہ یہ عراقی فوج کی صلاحتیوں کا اعتراف ہے۔ |
اسی بارے میں عراق میں مزید فوج بھیجنے کی مخالفت06 January, 2007 | آس پاس بش کو نینسی پلوسی کی وارننگ07 January, 2007 | آس پاس بُش پیچھےنہیں ہٹیں گے08 January, 2007 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||