بغداد: خود کش حملہ، 40 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پولیس کے مطابق مشرقی بغداد میں ایک تعلیمی ادارے کے باہر خود کش حملے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر طلباء ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کالج آف ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس کے باہر اس وقت پیش آیا جب بارود سے بھری ایک جیکٹ پہنے حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے سے متاثرہ کالج اس مستنصریہ یونیورسٹی کا حصہ ہے جہاں گزشتہ ماہ دو کار بم دھماکوں اور ایک خود کش حملے میں سو سے زائد طلباء مارے گئے تھے۔ اس سے قبل بغداد میں ہی واقع ایرانی سفارت خانے کے نزدیک ہونے والے کار بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر پنتالیس منٹ پر ہوا۔ اس وقت مذکورہ علاقے میں بہت ہجوم ہوتا ہے۔ اس واقعے میں دس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دھماکہ سفارت خانے کی عمارت سے پچاس میٹر کے فاصلے پر ہوا تاہم اس سے سفارت خانے کی عمارت کو نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کے بعد کرادا میریم ڈسٹرکٹ کی ناکہ بندی کر دی گئی۔
سنیچر کو بھی عراقی شہر حبانیہ میں ایک مسجد کے باہر ہونے والے ٹرک بم دھماکے میں بیالیس افراد ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ حبانیہ میں دھماکہ سے پہلے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے دعویٰ کیا تھا کہ امن و امان قائم کرنے کے حوالے سے ان کی نئی سکیورٹی پالیسی کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عراقی دارالحکومت میں دس دن قبل شروع کی جانے والی مہم سے ہلاکتوں اور اغوا کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ عراقی حکام کی جانب سے نئے سکیورٹی منصوبے پر عملدرآمد کے آغاز کے بعد ابتداء میں تو حالات قابو میں رہے تاہم گزشتہ چند دن سے پھر عراق میں بم دھماکوں اور پرتشدد واقعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ | اسی بارے میں عراق: بم دھماکے میں 42 ہلاک24 February, 2007 | آس پاس گیس حملوں پر امریکی تشویش22 February, 2007 | آس پاس بغداد: بم دھماکوں میں دس ہلاک20 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||