عراق: بم دھماکے میں 42 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شہر حبانیہ میں ایک مسجد کے باہر ہونے والے ٹرک بم دھماکے میں کم سے کم 42 افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ حبانیہ بغداد سے 80 کلومیٹر جنوب میں صوبہ انبار میں واقع ہے، جسے مزاحمت کاروں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ دھماکہ ایک سُنی مسجد کے باہر اس وقت ہوا جب لوگ نماز ادا کر کے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوئے تھے۔ تام مسجد کے قریب ایک سکول اور ایک پولیس سٹیشن بھی واقع ہے، اس لیے یہ اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے کہ حملہ آوروں کا اصل ہدف کیا تھا۔ حبانیہ میں دھماکہ سے پہلے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے دعویٰ کیا تھا کہ امن و امان قائم کرنے کے حوالے سے ان کی نئی سکیورٹی پالیسی کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہے۔ سنیچر کو بغداد کا دورہ کرنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ دارالحکومت میں دس دن قبل شروع کی جانے والی مہم سے ہلاکتوں اور اغوا کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کے دوران 426 مشتبہ شدت پسند پکڑے گئے ہیں اور لگ بھگ اتنے ہی مارے گئے ہیں۔ وزیر اعظم مالکی نے دعویٰ کیا کہ بہت سہ مزاحمت کار بغداد شہر سے فرار ہو چکے ہیں، لیکن انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ عراقی وزیراعظم کے بیان کے باوجود صرف بغداد میں ہی سنیچر کو ہونے والی تشدد کی کئی وارداتوں میں سات افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوئے۔ رات گئے دارالحکومت کے جنوبی حصے سے دھماکوں کی بیس آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ اس سے قبل وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بغداد کے مشرق میں ایک کارروائی کے دوران امریکی فوج نے ’اسلامی آرمی‘ نامی سُنی شدت پسند تنظیم کے درجنوں مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ |
اسی بارے میں عراق: ’خون خرابے کےذمہ دارنہیں‘22 February, 2007 | آس پاس عراقی ریپ مقدمہ: اہلکار برطرف22 February, 2007 | آس پاس امریکی فوجی کو سو سال قید23 February, 2007 | آس پاس بغداد: بم دھماکوں میں دس ہلاک20 February, 2007 | آس پاس عراق میں فوج کم کریں گے: بلیئر21 February, 2007 | آس پاس بغداد: کار بم دھماکے، 60 ہلاک18 February, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||