عراقی ریپ مقدمہ: اہلکار برطرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالکی نے ایک حکومتی اہلکار کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے جس نے مبینہ طور پر عراقی پولیس کے ہاتھوں ایک سنی خاتون کے ریپ کی بین الاقوامی سطح پر انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنی مخلوط حکومت میں اضطراب کو ختم کرنے کے لیے وزیرِ اعظم مالکی نے جو خود شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، امریکی میڈیکل رپورٹ کی ایک نقل بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سنی خاتون کو ریپ نہیں کیا گیا۔ نوری المالکی نے اپنے مخالفوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ عراقی سنی خاتون کی کہانی کو استعمال کر کے عراق کی پولیس کو بدنام کرنا چاہتے ہیں جس میں اکثریت شیعہ مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ گزشتہ روز ایک ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو میں عراق کی سنی خاتون نے الزام لگایا تھا کہ اسے عراقی مزاحمت کاروں کی مدد کرنے کا مجرم گردانتے ہوئے بے جا گرفتار کیا گیا اور ریپ کیا گیا۔ یہ الزام اور اس سے پیدا ہونے والی حکومت میں تقسیم کے خدشات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب عراقی حکام ایک نئے سکیورٹی منصوبہ پر عمل درآمد میں مصروف ہیں۔ اس منصوبے کے تحت زیادہ تر شیعہ پولیس کو سنی اکثریت والے اضلاع میں تعینات کیا جا رہا ہے۔
سنی سیاست دانوں نے پولیس پر اپنے طبقے کے خلاف حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ شیعہ شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملوں پر چشم پوشی کی جاتی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملازمت سے برطرف ہونے والے سنی اہکار نے دیگر نمایاں حیثیت والے سنی رہنماؤں کے ساتھ مل کر عراقی خاتون کے ساتھ زیادتی کے معاملے پر حکومت پر تنقید کی تھی۔ نوری المالکی نے جو میڈیکل رپورٹ جاری کی ہے وہ ابنِ سینا ہسپتال کی ہے جو بغداد کے گرین زون میں واقع ہے اور جس کا انتظام امریکی فوج کے پاس ہے۔ ہاتھ سے لکھی ہوئی اس رپورٹ میں عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تحریر ہے کہ عراقی خاتون کے پوشیدہ عضو پر خراش یا زخموں کے نشان نہیں پائے گئے۔ لیکن امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ایک نرس نے بتایا ہے کہ اس نے عراقی خاتون کو کلینک میں طبی امداد دی تھی اور اخبار کے بقول نرس کا کہنا ہے کہ اس نے خاتون پر جنسی اور بدنی تجاوز کے نشانات دیکھے تھے۔ امریکی فوجی اہلکاروں نے نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کہ آیا وہ رپورٹ صحیح ہے یا غلط جو وزیرِ اعظم نوری المالکی نے جاری کی ہے۔ امریکی اہلکاروں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ خفیہ میڈیکل ریکارڈ وزیرِ اعظم کے دفتر کیسے پہنچ گیا۔ | اسی بارے میں عراق میں القاعدہ رہنما ’زخمی‘16 February, 2007 | آس پاس عراق: بش مخالف قرارداد مسترد17 February, 2007 | آس پاس بغداد: کار بم دھماکے، 60 ہلاک18 February, 2007 | آس پاس عراق میں دو امریکی فوجی ہلاک19 February, 2007 | آس پاس بغداد: بم دھماکوں میں دس ہلاک20 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||