امریکی فوجی کو سو سال قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک چودہ سالہ عراقی لڑکی سےگینگ ریپ اور اسے خاندان سمیت قتل کرنے کے جرم میں ایک امریکی فوجی کو ایک سو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سارجنٹ پال کورٹِز نے عدالت کے سامنے چار افراد کے قتل، زیادتی اور گینگ ریپ کی سازش کے جرائم کا اعتراف کیا اور اسی وجہ سے انہیں سزائے موت نہیں سنائی گئی۔ یہ مقدمہ ان متعدد مقدمات میں سے ایک ہے جن میں امریکی فوجیوں پر عراقیوں کو قتل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پال کورٹِز کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے اور وہ دس برس کی قید کے بعد پیرول پر رہائی کی درخواست کے حقدار ہوں گے۔ جمعرات کو عدالت میں کورٹز نے اپنے جرائم قبول کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تین دیگر فوجیوں جیسی سپائلمین، جیمز بیکر اور سٹیون گرین کے ساتھ مل کر چودہ سالہ عبیر قاسم الجنابی کے گینگ ریپ کا منصوبہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ تاش کھیلتے ہوئے بنا اور اس لڑکی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ اس کےگھر میں صرف ایک مرد تھا اور مزاحمت کا خطرہ کم تھا۔ اسی مقدمے میں کورٹِز کے ساتھی جیمز بیکر کو نومبر میں ریپ اور قتل کے جرم میں نوے برس قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ سپائلمین اور ان کے ایک ساتھی برائن ہاورڈ اس واقعے سے متعلق الزامات کی بنیاد پر کورٹ ماشل کے منتظر ہیں جبکہ سٹیون گرین پر اس حوالے سے مقدمہ بطور عام شہری چلایا جا رہا ہے کیونکہ حکام کو اس واقعے کا علم ہونے سے پہلے ہی وہ فوج چھوڑ چکے تھے۔ ان پانچوں افراد کا تعلق فورٹ کیمبل، کنٹکی کے ایک سو ایک ائر بورن ڈویژن سے تھا اور اس مقدمے کی کارروائی بھی وہیں ہوئی۔ | اسی بارے میں ریپ کیس: گیارہ امریکیوں پر مقدمہ19 October, 2006 | آس پاس امریکی فوجی، زنا بالجبر کی کارروائی06 August, 2006 | آس پاس امریکی فوجی، قتل اور ریپ کا الزام03 July, 2006 | آس پاس عراق: فوجیوں کیخلاف تحقیقات30 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||