BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 February, 2007, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خود کش حملہ آور خاتون تھیں، حکام
حملے میں ہلاک ہونے والوں کی میتیں لے جائی جا رہی ہیں۔
کالج کے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے زیادہ ترطلباء تھے
حکام کا کہنا ہے کہ بغداد کے کالج پر ہونے والاخودکش حملہ ایک خاتون نے کیا تھا جس میں بیالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

گزشتہ اتوار کو خودکش بمبار نے کالج کے داخلی دروازے کے قریب خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا تھا۔ حملے میں پچپن افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

دھماکے کے چند گھنٹے بعد عراق میں شیعہ ملیشاء کے رہنما مقتدہ الصدر نے کہا تھا کہ بغداد میں امریکی تعاون سے جاری چھاپوں کی ناکامی لازمی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ عام شہریوں کو مکمل طور پر حکومتی تحفظ فراہم کرنے تک سکیورٹی کا کوئی بھی پلان کارگر ثابت نہیں ہوگا۔

کالج آف ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس پر مقتدہ الصدر کے ملیشاء کو کنٹرول حاصل ہے ۔ حملے کے بعد انہوں نے امریکہ سے ایک بار پھرکہا تھا کہ وہ عراق سے اپنی فوج نکال لے۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے سنیچر کو کہا تھا کہ سکیورٹی سے متعلق امریکی تعاون میں اضافےکی وجہ سے ملک میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں کمی آئی ہے۔

حکومتی ٹیلی ویژن کے مطابق پیر کے روز وزارت تعمیرات میں ہونے والے ایک دھماکے میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دھماکہ کے وقت عراق کے نائب صدر عادل عبدالمہدی وزارت کے اندر ایک اجلاس میں شریک تھے لیکن انکو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔

اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ دھماکہ بم یا مارٹر گولے کے پھٹنےکے نتیجےمیں پیش آیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے وزیر تعلیم عابد دیاب کے حوالے سے کہا تھا کہ گزشتہ پیر کے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت ان طلباء کی تھی جو امتحان دینے جارہے تھے۔انکے بقول حملے میں پانچ سکیورٹی گارڈ بھی ہلاک ہوئے تھے۔

کالج عراق کی دوسری بڑی یونیورسٹی مستنصریہ کے زیر انتظام ہے جس سے پہلے ہی بند ہونے کی دھمکیاں مل چکی تھیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یونیورسٹی کو پرتشدد کارروائیوں کو نشانہ بنایا گیا ہو۔

گزشتہ ماہ بھی یونیورسٹی کی ایک اہم عمارت کے قریب دو کار دھماکوں اور ایک خودکش حملے میں ایک سو سے زیادہ طلباء ہلاک ہوئے تھے۔

ایسے وقت میں جب عراق میں فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے لندن میں قائم ایک تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ ترکمان ، عیسائی اور بہائی اقلیتیں بڑے پیمانے پر تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کی مذہبی عمارات کو تباہ کیا جارہا ہے جبکہ غیر مسلمانوں کو قتل کی دھمکیوں، جنسی زیادتیوں اور جبری شادیوں کے ذریعے سے مذہب بدلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
بغداد: خود کش حملہ، 40 ہلاک
25 February, 2007 | آس پاس
امریکہ کی جیت یا تنہائی ؟
22 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد