عراق سےفوج کی واپسی: اعلان متوقع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر بدھ کو عراق کے جنوبی شہر بصرہ سے برطانوی فوج کے کچھ حصے کی واپسی کے نظام الاوقات کا اعلان کرنے والے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ عراق سے سات ہزار برطانوی فوج کی مرحلہ وار واپسی کے بارے میں دارالعوام میں بیان دیں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جیمز لینڈیل کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ لگ بھگ پندرہ سو کے قریب برطانوی فوج اگلے چند ماہ میں وطن لوٹ آئیں گی اور اس سال کرسمں تک یہ تعداد تین ہزار تک پہنچ جائے گی۔ ڈاؤننگ سٹریٹ نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن وائٹ ہال میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر عراق میں صورتِ حال مزید خراب ہوئی تو برطانوی فوج کی واپسی کا عمل سست ہو سکتا ہے۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے ’درست یہی ہے کہ پہلے وزیرِ اعظم صاحب پارلیمان کو مطلع کریں۔‘ تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر جارج بش نے ٹیلی فون پر وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر سے بات کی ہے۔ حال ہی میں صدر بش نے عراق میں 21500 مزید امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا گو برطانیہ کی فوج جنوبی عراق میں ہے، ہمیں خوشی ہے کہ بصرہ میں حالات بہتر ہو گئے ہیں اور وہاں کا انتظام عراقیوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ عراق سے برطانوی فوج کی واپسی کے بارے میں اعلان کیا جائے گا۔ تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ خیال کہ اگلے برس کے آخر تک تمام برطانوی فوجی وطن لوٹ چکے ہوں گے حقائق کی صحیح نمائندگی نہیں کرتا۔ گزشتہ برس نومبر میں وزیرِ دفاع ڈیس براؤن نے کہا تھا کہ دو ہزار سات کے آخر تک عراق میں برطانوی فوج کی موجودگی میں کافی حد تک کمی آ جائے گی۔ گزشتہ ماہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ اس سال اکتوبر تک تمام برطانوی فوج واپس بلائے جائیں۔ تاہم وزیرِ اعظم بلیئر نے کہا تھا کہ ایک من مانا نظام الاوقات طے کرنے سے عراق میں لوگوں کو بہت تباہ کن اشارہ دینے کے مترادف ہوگا۔ |
اسی بارے میں عراق میں مزید فوج بھیجنے کی مخالفت06 January, 2007 | آس پاس بش کو نینسی پلوسی کی وارننگ07 January, 2007 | آس پاس بُش پیچھےنہیں ہٹیں گے08 January, 2007 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||